شیرین مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور داماد سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

0
2

اسلام آباد (ایم این این) – سابق وفاقی وزیر شیرین مزاری نے منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے فوری عدالتی مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ انہیں اپنی قید بیٹی، انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حاضر، اور داماد ہادی علی چٹھہ سے ملاقات کی اجازت دی جا سکے، جو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

سیشن عدالت نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں ایمان اور ہادی کو مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواست میں شیرین مزاری نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام نے بغیر کسی تحریری حکم، وجوہات کے اندراج یا قانونی جواز کے قیدیوں کا اہل خانہ اور وکلا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیا ہے۔

درخواست کے مطابق ایمان اور ہادی کو 24 جنوری 2026 کو پیکا ایکٹ 2016 کے تحت درج مقدمے میں سزا سنائی گئی، جس کے بعد سے وہ مسلسل عدالتی تحویل میں ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ بارہا درخواستوں کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی قیدیوں کی جسمانی و ذہنی صحت، علاج یا جیل کی صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ قیدیوں کو اپنے وکلا تک خفیہ رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ اپنی سزا کے خلاف بروقت اپیل دائر نہیں کر پا رہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس طرح کا مکمل اور غیر معینہ رابطہ منقطع کرنا آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10 اے اور 14 کی خلاف ورزی ہے، جو منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار اور قانونی تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔

درخواست میں پنجاب پریزن رولز 1978 اور اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ریاست پر زیر حراست افراد کی دیکھ بھال کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

عبوری ریلیف کے طور پر شیرین مزاری نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حتمی فیصلے تک عارضی طور پر اہل خانہ سے ملاقات اور وکلا سے مشاورت کی اجازت دی جائے۔

درخواست میں فریقین کے طور پر وفاقِ پاکستان بذریعہ سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد پولیس اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نامزد کیا گیا ہے۔ عدالت نے تاحال درخواست پر سماعت کی تاریخ مقرر نہیں کی۔

کیس کا پس منظر

متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق کیس کا آغاز 12 اگست 2025 کو اسلام آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں درج شکایت سے ہوا تھا۔

شکایت میں ایمان مزاری پر الزام لگایا گیا کہ وہ ممنوعہ تنظیموں اور دہشت گرد گروہوں سے ہم آہنگ بیانیہ پھیلا رہی تھیں، جبکہ ان کے شوہر پر بعض پوسٹس کو ری پوسٹ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق دونوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملات کا ذمہ دار سکیورٹی فورسز کو ٹھہرایا اور مسلح افواج کو بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے کالعدم گروہوں کے خلاف غیر مؤثر ظاہر کیا۔

5 نومبر 2025 کو عدالت نے جوڑے کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے۔ بعد ازاں عدالت کے مقرر کردہ وکیل نے استغاثہ کے گواہوں پر جرح سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیے گئے سوالات نہیں پوچھ سکتے۔ بعد میں عدالت نے نیا وکیل مقرر کیا۔

کئی سماعتوں اور عدم حاضری کے بعد عدالت نے 14 جنوری کو عبوری ضمانت منسوخ کر دی اور چند دن بعد دوبارہ گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے، جنہیں بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

اس کے علاوہ، جولائی 2025 میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج سے متعلق ایک اور مقدمہ بھی دونوں کے خلاف سامنے آیا، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں پیشگی ضمانت دی تھی۔

علاوہ ازیں، 23 جنوری کو ایمان اور ہادی کو ستمبر 2025 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر جھگڑے کے مقدمے میں پولیس نے گرفتار کیا اور انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں