اسلام آباد (ایم این این) – وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے منگل کو کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں کوئی آپریشن نہیں کیا گیا بلکہ ان کے علاج کے دوران صرف انجیکشن دیے گئے۔
سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات کے جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے خود پمز میں علاج کروانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ اگر کسی قسم کا طبی مسئلہ درپیش ہوا تو عمران خان کو تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر عمران خان سمجھتے ہیں کہ ان کے کسی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا انہیں کوئی شکایت ہے تو متعلقہ عدالتوں اور اپیلٹ فورمز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
آنکھوں کے انفیکشن سے متعلق خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ ساٹھ برس کی عمر کے بعد آنکھوں میں خون کی گردش کے مسائل عام ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو وہی انجیکشن دیے گئے جو عام طور پر دیگر مریضوں کو دیے جاتے ہیں اور کسی قسم کی سرجری نہیں کی گئی۔
بدسلوکی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کے ساتھ غیرقانونی سلوک نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق عمران خان اپنی سزا کے بعد جیل میں ہیں اور قانون کے تحت تمام سہولیات کے حق دار ہیں۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے کبھی عمران خان کو طبی سہولیات سے محروم رکھنے کی ہدایت نہیں دی، بلکہ وزیراعظم نے پمز کے ڈائریکٹر کو حقائق پر مبنی پریس ریلیز جاری کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت مستحکم ہے اور ان کی مکمل صحتیابی کی امید ظاہر کی۔ اس موقع پر انہوں نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پی ٹی آئی حکومت کے دور میں جھوٹے منشیات کیس میں گرفتار کیا گیا اور آنکھوں کے فالج کے باوجود شدید گرمی میں رکھا گیا۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اڈیالہ جیل حکام کے خلاف ایک اور توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے کے لیے عدالت کا رخ کیا۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ اس معاملے پر چھٹی توہینِ عدالت کی درخواست ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو، اہل خانہ، وکلا اور ساتھیوں سے ملاقات کی اجازت دی ہے، تاہم اس کے باوجود کئی ہفتوں سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی، جن میں ان کی بہنیں اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی شامل ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ رویہ عدالتی احکامات کی مسلسل اور دانستہ خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قید جسمانی آزادی کو محدود کرتی ہے، مگر بنیادی حقوق کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیاں انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کی ہیں، جن کا مقصد سابق وزیراعظم کی آواز کو دبانا اور سیاسی بیانیے کو قابو میں رکھنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات عوام میں خوف اور بے بسی پیدا کرنے اور جمہوری و آئینی اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔


