قومی اسمبلی کی دہشت گردی کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف سخت قومی ردعمل کی قرارداد منظور

0
3

اسلام آباد (ایم این این) – قومی اسمبلی نے منگل کو ایک قرارداد منظور کی جس میں دہشت گردی کے بیرونی سرپرستوں اور اندرونی سہولت کاروں کے خلاف جارحانہ، مربوط اور مؤثر قومی ردعمل کا مطالبہ کیا گیا۔

ایوانِ زیریں میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال پر بحث جاری رہی۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے قرارداد پیش کی، جسے اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔

قرارداد میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور خواتین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے جیسے سفاک اور غیر انسانی طریقے اپنائے گئے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے بیرونی سرپرستوں اور اندرونی سہولت کاروں، ان کی فنڈنگ، اسمگلنگ اور پراپیگنڈا نیٹ ورکس کے خلاف فوری، جارحانہ اور مربوط قومی کارروائی کی جائے، جس میں سیاسی، سفارتی، عسکری، انٹیلی جنس، قانونی اور بیانیاتی محاذ یکجا ہوں۔

ایوان نے کہا کہ متعدد واقعات میں شواہد بیرونی سرپرستی کی نشاندہی کرتے ہیں اور خصوصاً بھارت کے کردار پر سنگین خدشات موجود ہیں۔ قرارداد کے مطابق بعض ہمسایہ ممالک میں لاجسٹک و آپریشنل سہولت، مالی معاونت، تربیت، نقل و حرکت اور پراپیگنڈا نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت کی جا رہی ہے۔

قرارداد میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کو جبر، استحصال اور بلیک میلنگ کے ذریعے ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسلامی، پاکستانی اور بلوچ اقدار کے منافی ہے۔

ایوان نے سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، بلوچستان حکومت اور سول انتظامیہ کے بروقت اور مؤثر اقدامات کو سراہا۔ شہدا اور زخمیوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہریوں، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابلِ معافی جرائم ہیں اور ریاست کو زیرو ٹالرنس کی بنیاد پر فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے ہفتے کو بلوچستان بھر میں بڑے پیمانے پر مربوط حملے کیے۔ جوابی کارروائی میں ابتدائی طور پر 92 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 48 گھنٹوں میں یہ تعداد بڑھ کر 177 ہو گئی۔

اراکینِ اسمبلی کے تحفظات

پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) سمیت مختلف جماعتوں کے اراکین نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

پی ٹی آئی کے اسد قیصر نے کہا کہ جب تک دہشت گردی کی بنیادی وجوہات اور عوامی مسائل کا درست تجزیہ نہیں کیا جائے گا، صورتحال بہتر نہیں ہو گی۔ انہوں نے انصاف، بنیادی حقوق اور جمہوریت کو امن کے لیے ضروری قرار دیا۔

جے یو آئی (ف) کی عالیہ کامران نے سکیورٹی فورسز کے ردعمل میں تاخیر پر سوال اٹھایا اور کہا کہ بعض علاقوں میں صورتحال اب بھی معمول پر نہیں آئی۔ انہوں نے خواتین کے خودکش حملوں میں استعمال پر بھی سنجیدہ غور و فکر کا مطالبہ کیا۔

پیپلز پارٹی کی سحر کامران نے کہا کہ حملوں کا مقصد صرف بلوچستان نہیں بلکہ پورے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا، اور اس میں بیرونی مداخلت واضح ہے۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب سے 40 فیصد زیادہ حصہ ملتا ہے اور صوبے میں خرچ ہونے والے 90 فیصد سے زائد وسائل وفاق فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اداروں پر حملے عام شہریوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، نہ کہ مسائل کا حل ہیں۔

بلوچستان حملے

ہفتے کے روز کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور شہری اہداف پر مربوط حملے کیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کلیئرنس آپریشنز میں 92 دہشت گرد مارے گئے، جن میں تین خودکش بمبار بھی شامل تھے، جبکہ 15 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

ان حملوں میں کم از کم 18 شہری، جن میں خواتین، بچے اور مزدور شامل ہیں، جان سے گئے۔ فوج کے مطابق ان حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان سے باہر بیٹھے دہشت گرد سرغنوں نے کی، جو دورانِ حملہ دہشت گردوں سے رابطے میں رہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں