پاکستان کو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے مذاکرات میں شرکت کی دعوت

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – پاکستان کو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جس کی تصدیق دفتر خارجہ نے منگل کو کی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان کو ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے آئندہ مذاکرات کے لیے دعوت موصول ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی شرکت کو اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان پس پردہ سفارتی سطح پر بات چیت کو آسان بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اجلاس میں شرکت کرنے کا امکان ہے۔ ایک عرب عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ مذاکرات جمعے کو ترکیہ میں ہونے کا امکان ہے۔

امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس نے نامعلوم ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی استنبول میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کریں گے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ معاہدے پر بات چیت ہوگی۔

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک علاقائی عہدیدار نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنا اور دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی علاقائی ممالک کو وزرائے خارجہ کی سطح پر مذاکرات میں مدعو کیا گیا ہے۔

عہدیدار کے مطابق مذاکرات کے طریقہ کار کا ابھی تعین نہیں ہو سکا، تاہم مرکزی اجلاس جمعے کو ہوگا اور کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے بات چیت کا آغاز نہایت ضروری ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا کہ انہوں نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ہدایت دی ہے کہ وہ منصفانہ اور مساوی مذاکرات کریں، بشرطیکہ ماحول دھمکیوں اور غیر معقول مطالبات سے پاک ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات ایران کے قومی مفادات کے دائرے میں ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ امریکا اور ایران کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی مخالفت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے مؤقف سے اتفاق کرتا ہے اور یہ ایک اچھے معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس کے بدلے پابندیاں ختم کی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران جنگ کے لیے بھی تیار ہے اور ایسا تنازع ایران سے باہر بھی پھیل سکتا ہے۔

ترکیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں سرگرم ہے، جہاں گزشتہ ہفتے عباس عراقچی نے استنبول کا دورہ کیا اور مصر، سعودی عرب اور اردن سمیت دیگر علاقائی ممالک کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی فضائی حدود یا سرزمین ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، جبکہ اردن نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی کارروائی کے لیے لانچنگ پیڈ نہیں بنے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں