ویب ڈیسک (ایم این این) — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جمعہ کو عمان میں ہوں گے، جبکہ گزشتہ ماہ ایران میں ملک گیر مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب مذاکرات کے طریقہ کار، ایجنڈے اور مقام پر اختلافات کے باعث بات چیت کے تعطل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر عمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ملاقات کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے ہیں۔
اس سے قبل ایک علاقائی عہدیدار نے بتایا تھا کہ ایران ترکی کی جانب سے تجویز کردہ فارمیٹ کے بجائے ایسا اجلاس چاہتا ہے جو صرف جوہری پروگرام تک محدود ہو اور جس میں صرف ایران اور امریکا شریک ہوں۔ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ امریکا اب ترکی کے بجائے عمان میں اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ ان کے مطابق متعدد عرب اور مسلم رہنماؤں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ سفارتی عمل سے دستبردار نہ ہو، اگرچہ ایران نے مذاکرات کے دائرہ کار کو محدود کرنے اور مقام تبدیل کرنے پر زور دیا۔
وائٹ ہاؤس عہدیدار نے کہا کہ امریکا کو مذاکرات کی کامیابی پر شدید شکوک ہیں، تاہم اتحادی ممالک کے احترام میں نئی ترتیب کو قبول کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائی پر ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے امکان کے اظہار کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا، جبکہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے معاہدے پر بھی زور دے رہا ہے۔
ایران کے اصلاح پسند صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز کہا کہ انہوں نے وزیر خارجہ کو امریکا کے ساتھ منصفانہ اور متوازن مذاکرات کی ہدایت کی ہے، جو مذاکرات پر آمادگی کا واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس اقدام کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حمایت بھی حاصل دکھائی دیتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ بات چیت جوہری مسئلے سے آگے بڑھ کر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں پراکسی گروہوں کی حمایت اور انسانی حقوق سے متعلق امور تک پھیلے۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے سیاسی نظام کی وجہ سے سفارت کاری مشکل ہے، تاہم صدر ٹرمپ کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب فوجی کشیدگی بھی جاری رہی۔ منگل کو امریکی بحریہ کے جنگی طیارے نے ایک ایرانی ڈرون کو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب مار گرایا، جبکہ ایرانی انقلابی گارڈز کی تیز رفتار کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی پرچم بردار جہاز کو روکنے کی کوشش کی۔ ایران نے ان واقعات پر فوری ردعمل نہیں دیا۔
بدھ کے روز ایرانی فوجی قیادت نے ایک میزائل بیس کا دورہ کیا جہاں خرمشہر میزائل موجود ہے، جس کی رینج دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے، تاکہ اسرائیل کے ساتھ گزشتہ سال کی جنگ کے بعد اپنی دفاعی تیاری کو اجاگر کیا جا سکے۔
اسی روز ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایران میں غیر ملکی مداخلت کی مخالفت دہراتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل، بشمول جوہری معاملہ، بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔ ترکی گزشتہ ہفتے سے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہے اور ابتدائی طور پر مذاکرات کی میزبانی بھی متوقع تھی۔


