اسلام آباد (ایم این این) — وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھیلوں میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جو براہِ راست نشر کیا گیا، وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے واضح اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا۔
انہوں نے کہا کہ کھیلوں کو سیاست سے پاک رہنا چاہیے اور یہ فیصلہ مکمل غور و فکر کے بعد کیا گیا ہے، جو موجودہ حالات میں مناسب ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کو حکومت نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کی اجازت دی تھی، تاہم بھارت کے خلاف 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ پیش رفت بھارت کے ساتھ کشیدگی کے باعث بنگلہ دیش کی جانب سے ٹورنامنٹ سے دستبرداری کے بعد سامنے آئی، جبکہ بھارت ورلڈ کپ کے شریک میزبانوں میں شامل ہے۔
خطاب کے آغاز میں وزیر اعظم نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین سے چار دن کے اندر 180 دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا، جبکہ 17 سکیورٹی اہلکار شہید اور 31 شہری جاں بحق ہوئے۔
گوادر کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پانچ خواتین اور بچے شہید ہوئے، جو ایک دلخراش سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد انسانیت سے عاری ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قوم سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور بتایا کہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ مختصر فوجی تصادم، جسے معرکۂ حق کہا جاتا ہے، کے بعد پاکستان کے مشرقی ہمسائے اور دیگر خوارج ملک کی ترقی اور خوشحالی کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ خوارج کی اصطلاح ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عناصر کے لیے استعمال کرتی ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان ترقی کی راہ پر کامیاب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو یاد رکھنا چاہیے کہ دہشت گردوں نے خواتین، بچوں اور محنت کش شہریوں کو نشانہ بنایا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ پورا ملک سوگ میں ہے، لیکن وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاک فوج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے، اور وہ دن ضرور آئے گا جب یہ قربانیاں رنگ لائیں گی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔
علاقائی امور پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایران سے متعلق کشیدگی کے دوران پاکستان نے برادرانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے، نائب وزیر اعظم اور آرمی چیف نے ایرانی قیادت سے متعدد ملاقاتیں اور ٹیلی فونک رابطے کیے تاکہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے ذریعے خطے میں امن کی راہ ہموار ہوگی۔
پانچ فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ پشاور سے کراچی تک قوم بھارتی زیر قبضہ کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شہروں میں تقریبات ہوں گی اور وہ خود آزاد کشمیر جا کر پوری قوم کی جانب سے پیغامِ یکجہتی دیں گے۔
وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے ان کی کامیابی پر فون کر کے مبارکباد دی اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر وفاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو یاد دلایا کہ پاکستان سب سے مقدم ہے اور خیبر پختونخوا ایک اہم اور خوبصورت صوبہ ہے، جس کے عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ وزیر اعظم نے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی، سکیورٹی اور پولیسنگ کے لیے صوبے کو 800 ارب روپے دیے گئے، تاہم نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جس پر انہوں نے منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال، وزیر خزانہ اور سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات کر کے ادائیگیوں میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کریں۔


