پاکستان کا اقوام متحدہ سے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ، فوری کارروائی پر زور

0
1

نیو یارک (ایم این این) — پاکستان نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نظام کے تحت دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، جبکہ اس حوالے سے درخواست پہلے ہی کونسل کے زیرِ غور ہے۔

دہشت گردی کے باعث عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ کونسل 1267 پابندیوں کے نظام کے تحت بی ایل اے کو فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ جلد کرے گی۔

انہوں نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت پر سلامتی کونسل کے ارکان کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ عالمی برادری کی یکجہتی اور حمایت کو سراہا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور اس کے سرپرستوں، مالی معاونین اور سہولت کاروں کو بے نقاب کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے ایک صفِ اوّل کے ملک کے طور پر بھاری قیمت ادا کی ہے، جہاں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان اور شدید معاشی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

ماضی کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ القاعدہ کی مرکزی قیادت افغانستان میں بڑی حد تک پاکستان کی مؤثر کوششوں کے نتیجے میں ختم کی گئی، جبکہ داعش کے علاقائی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں میں بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ ان کے مطابق بیرونی مالی امداد سے چلنے والے پراکسی دہشت گرد گروہ، جن میں فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ شامل ہیں، دوبارہ سرگرم ہو گئے ہیں۔

سفیر نے کہا کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں اور پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی معاونت سے ملک کے اندر خونریز حملوں میں ملوث ہیں۔

بلوچستان میں حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایل اے نے متعدد مقامات پر مربوط حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں 48 بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی میں 145 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال اگست میں امریکی محکمہ خارجہ نے بی ایل اے اور اس کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے افغانستان سے ابھرتے علاقائی خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق یہ گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر بھی خبردار کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے روکے جائیں۔

انہوں نے دہشت گرد گروہوں کی حمایت، مالی معاونت اور اسلحہ فراہم کرنے والے بیرونی عناصر، بشمول افغانستان میں موجود پراکسی نیٹ ورکس، کے خلاف احتساب پر زور دیا۔

سفیر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دوہرے معیار کے بغیر اجتماعی، جامع اور مربوط ردِعمل اختیار کرے اور عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی پر متوازن عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

انہوں نے انسدادِ دہشت گردی میں انتخابی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی دہشت گردی کے لیے زیرو ٹالرنس ہونی چاہیے، اور بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جائز جدوجہد کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے کا عمل اجتماعی عزم کی تجدید اور موجودہ خلا کو پُر کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گا، اور پاکستان اس ناسور کے خاتمے کے لیے کثیرالجہتی اور مشترکہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں