پاکستان اور ازبکستان کے درمیان پانچ سال میں دو ارب ڈالر تجارت بڑھانے کا تاریخی معاہدہ

0
4

اسلام آباد (ایم این این): پاکستان اور ازبکستان نے آئندہ پانچ سال میں دوطرفہ تجارت کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے ایک اہم پروٹوکول پر دستخط کر دیے۔ یہ معاہدہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ازبک صدر شوکت مرزایوف کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران طے پایا۔

صدر مرزایوف کے دو روزہ دورۂ پاکستان کے پہلے دن دونوں ممالک کے درمیان مجموعی طور پر 28 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ پروٹوکول کے تحت ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو تجارت اور اقتصادی تعاون کے لیے پانچ سالہ روڈ میپ تیار کرے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بات چیت خوشگوار اور انتہائی نتیجہ خیز رہی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطہ کاری، تعلیم، ثقافت اور عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے صدر مرزایوف کو نشانِ پاکستان ملنے پر مبارکباد بھی دی۔

دونوں ممالک کے درمیان دفاع، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات سے نمٹنے، زراعت، معدنیات، فارماسیوٹیکل، کھیل، آئی ٹی، ڈیجیٹل تعاون، سمندری تجارت، ایس ایم ایز اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔

ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت اشیاء کی فہرست میں توسیع، پاکستان۔ازبکستان انٹر ریجنل فورم کے قیام، اور کراچی، گوادر اور قاسم بندرگاہوں کے ذریعے تجارتی تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق ہوا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات صدیوں پرانے تاریخی، روحانی اور ثقافتی رشتوں پر مبنی ہیں، جن کی بنیاد قدیم شاہراہِ ریشم ہے۔ انہوں نے ازبکستان۔افغانستان۔پاکستان ریلوے منصوبے کو خطے کے لیے گیم چینجر قرار دیا۔

صدر شوکت مرزایوف نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ازبکستان کا سب سے قریبی اور قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا اور پاکستان کی معاشی اصلاحات اور ترقی کو سراہا۔ انہوں نے پروٹوکول کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ازبک سفارتی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے۔

دونوں رہنماؤں نے تجارت کے فروغ، دفاعی تعاون، علاقائی امن، تعلیمی و سائنسی اشتراک اور رابطہ کاری کے منصوبوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں