سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد وکیل کی عمران خان سے ملاقات، صحت بہتر قرار

0
1

راولپنڈی (ایم این این): پاکستان تحریک انصاف کے وکیل سلمان صفدر نے منگل کے روز اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور بتایا کہ پی ٹی آئی بانی صحت کے لحاظ سے بالکل ٹھیک اور تندرست نظر آئے۔

یہ ملاقات تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی، جو سپریم کورٹ کی جانب سے سلمان صفدر کو امیکس کیوری کے طور پر مقرر کیے جانے کے بعد ممکن ہوئی۔

جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان خیریت سے ہیں، تاہم انہوں نے ملاقات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ انہیں پہلے سپریم کورٹ میں تحریری رپورٹ جمع کروانی ہے۔ رپورٹ جمع ہونے کے بعد وہ تفصیلات شیئر کریں گے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے عمران خان کی جیل میں رہائش سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران سلمان صفدر کو “عدالت کا دوست” مقرر کرتے ہوئے اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے ملاقات اور ان کی رہائش کے حالات پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ایک روز قبل پی ٹی آئی کے سینئر رہنما لطیف کھوسہ کی جانب سے عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست دو رکنی بینچ نے مسترد کر دی تھی، جس میں چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ فریقِ مخالف کو سنے بغیر ایسا حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔

منگل کو سماعت دوبارہ شروع ہونے پر چیف جسٹس نے سلمان صفدر کو ہدایت کی کہ وہ اڈیالہ جیل جا کر عمران خان کی موجودہ رہائشی صورتحال پر رپورٹ بدھ تک جمع کروائیں۔ سماعت میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور لطیف کھوسہ بھی پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ کو گفتگو سے روک دیا، جبکہ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے 24 اگست 2023 کے حکم کی روشنی میں تحریری جواب پہلے ہی جمع کروایا جا چکا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ 28 اگست 2023 کو عمران خان کی جیل سے متعلق رپورٹ اور 5 سے 18 اگست تک کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی تھی، جب عمران خان اٹک جیل میں قید تھے۔

تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ رپورٹ عمران خان کی سابقہ قید سے متعلق تھی اور موجودہ حالات کا احاطہ نہیں کرتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کی موجودہ رہائشی صورتحال پر نئی رپورٹ جمع کروانا ضروری ہے۔

بعد ازاں سلمان صفدر کو امیکس کیوری مقرر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ انہیں عمران خان تک مکمل رسائی دی جائے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ سلمان صفدر کو جیل کے باہر انتظار نہ کروایا جائے اور کسی بھی مسئلے کی صورت میں چیف جسٹس کا ذاتی عملہ مدد فراہم کرے گا۔

سلمان صفدر نے عدالت سے استفسار کیا کہ آیا رپورٹ کے دائرہ کار میں عمران خان کی صحت بھی شامل ہو گی، جس پر چیف جسٹس نے واضح کیا کہ رپورٹ صرف رہائشی حالات تک محدود رکھی جائے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ پہلے سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو بھی عدالتی حکم کا حصہ بنایا جائے۔

سماعت کے اختتام پر لطیف کھوسہ نے دوبارہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت مانگی، تاہم یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ عدالت نے سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ جمعے چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران عمران خان کی قید اور صحت پر بات ہوئی۔ انہوں نے اس گفتگو کو مثبت اور مفید قرار دیا۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا جا رہا اور پارٹی صرف انسانی سلوک کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام کو انسانیت کی طرف واپس آنا چاہیے۔

واضح رہے کہ عمران خان 5 اگست 2023 سے قید میں ہیں اور اس وقت راولپنڈی کی سینٹرل جیل اڈیالہ میں قید ہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو جمع کرائے گئے دو صفحات پر مشتمل میمورنڈم میں عمران خان کے اہل خانہ، ڈاکٹروں، وکلا اور دوستوں سے فوری ملاقات کی اجازت مانگی گئی تھی۔ میمورنڈم میں الزام لگایا گیا کہ عمران خان کے بطور قیدی اور بطور انسان بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جبکہ اسلام آباد کے ایک اسپتال میں مبینہ خفیہ طبی عمل اور اہل خانہ کو لاعلم رکھنے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں