اسلام آباد (ایم این این) – صدر آصف علی زرداری نے ایران سے متعلق کسی بھی فوجی تصادم کے ممکنہ سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی پیش رفت خلیجی خطے، جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کے استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔
وہ بدھ کو اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے اسلامی انقلاب 1979 کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
صدر نے کہا کہ ایران کے حوالے سے کسی بھی قسم کی عدم استحکام یا مسائل کو فوجی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش عالمی امن اور عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کو درپیش پیچیدہ مسائل طاقت یا یکطرفہ اقدامات سے حل نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے ایران سمیت کسی بھی ملک پر یکطرفہ پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن مکالمہ اور سفارتی رابطہ ہی علاقائی و عالمی سلامتی کے لیے مؤثر راستہ ہے۔
صدر نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور متعلقہ فریقین کے درمیان تعمیری مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
تقریب کے آغاز میں صدر زرداری نے اسلام آباد میں حالیہ دھماکے اور ایران میں پیش آنے والے سانحات کے متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ دعا ہے جنگیں ہمارے دروازے تک نہ پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ جاری تنازعات، دہشت گردی، بیرونی مداخلت اور دیگر علاقائی مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سفارتی کوششوں میں مضمر ہے۔
صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران نہ صرف ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ تہذیبی شراکت دار بھی ہیں۔ دونوں ممالک سرحدی نظم و نسق، انسداد دہشت گردی اور مشترکہ سرحد کو قانونی تجارت اور ترقی کا مرکز بنانے کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے فارسی زبان اور ادب کے پاکستان پر گہرے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدیوں تک فارسی اس خطے کے بعض حصوں کی سرکاری زبان رہی۔ انہوں نے رومی، حافظ، سعدی، فردوسی، سچل سرمست اور علامہ اقبال جیسے شعرا کو خراج تحسین پیش کیا۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران نے بیرونی دباؤ کے باوجود ٹیکنالوجی، دفاع، سائنس اور معیشت کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور تنازعات کو مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے، تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے دوران پاکستان کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔


