اسلام آباد (ایم این این): سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ گھر میں گرنے کے باعث زخمی ہوگئے جس کے بعد انہیں فوجی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق جنرل (ر) باجوہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے اپنے گھر کے باتھ روم میں پھسل کر گر گئے جس کے نتیجے میں ان کے سر پر چوٹ آئی۔ انہیں فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کیا گیا جہاں وہ اس وقت انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زیرِ علاج ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق انہیں متعدد چوٹیں آئی ہیں تاہم ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ گرنے کے واقعے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ، 65 سال کی عمر میں، 29 نومبر 2016 سے 29 نومبر 2022 تک پاکستان کے دسویں چیف آف آرمی اسٹاف رہے۔ 2019 میں ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع بھی کی گئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سے وہ عوامی منظرنامے سے دور رہے ہیں۔
آرمی چیف بننے سے قبل وہ جی ایچ کیو میں انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن کے عہدے پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 10 کور میں جنرل اسٹاف آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں، اقوام متحدہ کے مشن کے تحت کانگو میں بریگیڈ کمانڈر رہے اور انفنٹری اسکول کوئٹہ کے کمانڈنٹ بھی تعینات رہے۔
جنرل (ر) باجوہ کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے جس نے تین آرمی چیفس پیدا کیے ہیں: جنرل یحییٰ خان، جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل اشفاق پرویز کیانی۔


