اسلام آباد (ایم این این) وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے سولر صارفین سے متعلق حالیہ تبدیلیوں کا نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو اس فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کرنے کی ہدایت کر دی۔
نیپرا نے پیر کے روز موجودہ اور نئے نیٹ میٹرنگ صارفین، جنہیں پروزیومرز کہا جاتا ہے، کے معاہدوں کی شرائط میں تبدیلی کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ نظام ختم کر کے نیٹ بلنگ کا طریقہ کار نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ریگولیٹر کے مطابق یہ اقدام بڑھتی ہوئی سولر پیداوار کو منظم کرنے اور مہنگے و غیر مؤثر سرکاری بجلی نظام کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیا۔ یہ پیش رفت سینیٹ میں حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعت تحریک انصاف سمیت مختلف جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد سامنے آئی۔
وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ نیپرا کے سامنے فوری طور پر نظرثانی اپیل دائر کرے تاکہ موجودہ صارفین کے معاہدوں کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سولر سے مستفید ہونے والے تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار صارفین کا بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ گھریلو صارفین پر منتقل نہیں ہونا چاہیے جو قومی گرڈ سے بجلی حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے جامع حکمت عملی تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ یہ احکامات وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیے جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور وزیراعظم کے مشیر محمد علی شریک تھے۔
وزیر توانائی کا مؤقف
منگل کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر توانائی اویس لغاری نے نیپرا کے اقدام کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صارفین پر بوجھ کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون اور آئین کے مطابق قواعد میں تبدیلی کرنا ریگولیٹر کا اختیار ہے اور وہ اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی نہیں بلکہ ایک ریگولیٹری اقدام ہے۔
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ تک
توانائی ماہرین اور متعلقہ فریقین نے خبردار کیا ہے کہ مجوزہ پروزیومر ریگولیشنز 2025 شہری سطح پر فروغ پانے والی سولر توانائی کی ایک دہائی پر محیط پیش رفت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
نئے قواعد کے تحت تمام رجسٹرڈ پروزیومرز کو فوری طور پر نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقل کر دیا جائے گا۔ ان کی برآمد شدہ بجلی کے یونٹس کا کریڈٹ اب تین ماہ کے بجائے صرف ایک ماہ کے لیے دیا جائے گا، جبکہ دیگر شرائط سات سالہ معاہدے کی مدت تک برقرار رہیں گی۔
نیٹ بلنگ کے تحت صارف کی جانب سے پیدا کی گئی بجلی ڈسکوز نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس (تقریباً 10 روپے فی یونٹ) کے حساب سے خریدیں گی، جبکہ گرڈ سے لی گئی بجلی پر 37 سے 55 روپے فی یونٹ (ٹیکسز اور سرچارجز کے علاوہ) وصول کیے جائیں گے۔
نئے ضوابط کے مطابق صارفین اپنی منظور شدہ لوڈ سے زائد صلاحیت کا سولر سسٹم نصب نہیں کر سکیں گے، جس سے استعداد کی حد عملاً 50 فیصد تک کم ہو جائے گی۔
نئے پروزیومرز کو صرف پانچ سال کا معاہدہ دیا جائے گا اور ان کی برآمد شدہ بجلی 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی، جبکہ موجودہ معاہدوں کے تحت یہ قیمت 26 روپے فی یونٹ ہے۔ درآمد اور برآمد شدہ یونٹس کا حساب الگ الگ کیا جائے گا اور فرق کی رقم صارف کو ادا کرنا ہوگی، جب کہ پہلے یونٹ کے بدلے یونٹ کا نظام رائج تھا۔
حکومت اور نیپرا کا کہنا ہے کہ منظور شدہ حد سے زیادہ سولر صلاحیت رکھنے والے صارفین اور غیر میٹرڈ سسٹمز گرڈ مسائل اور اضافی کیپیسٹی چارجز کا باعث بن رہے ہیں، تاہم ناقدین کے مطابق نئے قواعد میں ان معاملات پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا گیا۔
نیپرا کے مطابق نئے ضوابط میں واضح طریقہ کار، سخت تکنیکی تقاضے اور نیا بلنگ نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ چھوٹے پیمانے کی پیداوار کو قومی گرڈ میں مؤثر انداز سے ضم کیا جا سکے اور نظام کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔


