ڈھاکہ (ایم این این) – بنگلہ دیش میں 2024 کی عوامی تحریک کے بعد منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر آ رہی ہے، جب کہ ملک نے جمعرات کو پرامن انداز میں ووٹنگ کا عمل مکمل کیا۔
یہ انتخابات شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے اور ان کے جلاوطنی اختیار کرنے کے بعد جمہوری نظام کے لیے ایک اہم امتحان سمجھے جا رہے ہیں۔ 2024 کی تحریک کو “جنریشن زی بغاوت” کا نام دیا گیا تھا۔
سرکاری نتائج جمعہ کو متوقع تھے، تاہم ابتدائی اندازوں کے مطابق بی این پی 151 نشستوں کے ساتھ سبقت لیے ہوئے ہے، جو سادہ اکثریت کے لیے کافی ہیں۔ اس کامیابی کی صورت میں پارٹی سربراہ طارق رحمان ملک کی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔
طارق رحمان دسمبر میں 17 سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے لندن سے وطن واپس آئے تھے۔ وہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں، جن کا گزشتہ دسمبر انتقال ہو گیا تھا۔
بی این پی کا مرکزی حریف جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں کا اتحاد ہے، جسے ابتدائی اندازوں میں 40 نشستیں ملنے کی توقع ظاہر کی گئی، جبکہ چند نشستیں دیگر جماعتوں کو مل سکتی ہیں۔
بنگلہ دیش کی 300 رکنی پارلیمان کے ارکان براہ راست ووٹنگ سے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ابتدائی سست رفتار کے بعد ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہوا اور دوپہر دو بجے تک 47 فیصد سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے تھے۔ 127 ملین سے زائد افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
انتخابات سے باہر کی گئی عوامی لیگ نے ووٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا اور عبوری سربراہ محمد یونس پر جانبداری کا الزام عائد کیا۔
نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے کہا کہ یہ دن “نئے بنگلہ دیش کی سالگرہ” ہے اور شفاف انتخابات کا وعدہ کیا۔ یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت تقریباً 500 بین الاقوامی مبصرین نے انتخابی عمل کا جائزہ لیا۔
یہ انتخابات ایک ایسے دور کے بعد منعقد ہوئے ہیں جس میں سیاسی بے چینی، اقلیتوں اور میڈیا پر حملوں، اور شدت پسند گروہوں کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ 1971 میں آزادی کے بعد بنگلہ دیش کی سیاست جماعتی کشمکش، فوجی مداخلتوں اور انتخابی دھاندلی کے الزامات سے متاثر رہی ہے۔
نوجوان ووٹرز، جنہوں نے 2024 کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا، اس انتخاب میں اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تقریباً 50 لاکھ نئے ووٹر پہلی بار ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔
انتخابات کے ساتھ ساتھ اہم آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ اگر اکثریت اصلاحات کے حق میں ووٹ دیتی ہے تو نئی پارلیمان 180 دن کے اندر آئینی اصلاحاتی کونسل قائم کر کے دو ایوانی پارلیمانی نظام سمیت دیگر تبدیلیاں متعارف کرا سکتی ہے۔
بی این پی اور جماعت اسلامی نے بعض ترامیم کے ساتھ اصلاحاتی دستاویز پر دستخط کیے، جبکہ عوامی لیگ کو اس عمل سے باہر رکھا گیا اور اس نے جلاوطنی سے ہی انتخابات اور ریفرنڈم پر تنقید کی۔


