عمران خان کی صحت پر تشویش، ٹی ٹی اے پی کا پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کا اعلان

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کی نماز کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دے گا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی بانی کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔

یہ رپورٹ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں پیش کی، جس میں عمران خان کے حوالے سے کہا گیا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر ان ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ماہرین کا نام لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو مناسب علاج کے لیے منتقل کیا جائے کیونکہ زیرِ حراست فرد کی صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔

ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دھرنا پُرامن ہوگا اور مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ انہوں نے ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو شرکت کی دعوت بھی دی۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بروقت علاج نہ فراہم کرنا مجرمانہ غفلت ہے۔ ان کے مطابق نومبر میں آنکھ میں تکلیف شروع ہوئی، دسمبر میں بینائی ختم ہوگئی، مگر صرف قطرے دیے جاتے رہے۔ بعد ازاں ریٹینا کی رکاوٹ کی تشخیص ہوئی اور پمز اسپتال میں علاج کے بعد جزوی طور پر 10 سے 15 فیصد بینائی بحال ہوئی۔

انہوں نے سابق جیل سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں تاخیر اور لاپروائی کی گئی۔ علیمہ خان نے رپورٹ کو دل دہلا دینے والی قرار دیا جبکہ وزیرِاعلیٰ کے پی نے مبینہ غفلت کو “مجرمانہ عمل” کہا۔

سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس نے آزاد اور شفاف میڈیکل بورڈ کی تشکیل، مکمل میڈیکل ریکارڈ منظرِ عام پر لانے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کے سامنے بھی اٹھایا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور انہیں فوری طور پر ذاتی معالجین تک غیر مشروط رسائی اور ماہرین کے تجویز کردہ اسپتال منتقل کیا جائے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ مزید غفلت کی صورت میں شدید عوامی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

پارٹی رہنماؤں نے اس معاملے کو انسانی حقوق کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں اور میڈیا سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں