کراچی (ایم این این) – سندھ حکومت نے جامعہ سندھ کے دادو کیمپس کے انچارج پروفیسر اظہر شاہ کو مبینہ نامناسب ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معطل کر دیا ہے، جس پر شدید ردعمل اور باضابطہ شکایات سامنے آئیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کے پرو چانسلر اور وزیر جامعات و بورڈز اسماعیل راہو نے وائس چانسلر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ زیر گردش ویڈیوز سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے پروفیسر کی فوری معطلی اور حقائق جاننے کے لیے باضابطہ انکوائری کا حکم دیا۔
خط میں کہا گیا کہ کارروائی قانون کے مطابق کی جائے گی اور متعلقہ پروفیسر کو صفائی کا مکمل موقع دیا جائے گا۔ وزیر نے ہدایت کی کہ 15 روز کے اندر انکوائری مکمل کر کے تفصیلی رپورٹ، نتائج اور سفارشات سمیت، ان کے دفتر کو ارسال کی جائے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ معاملہ ضابطوں کے تحت کارروائی کے لیے یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے سامنے بھی پیش کیا جائے۔
اساتذہ اور طلبہ نمائندگان کی جانب سے دائر کی گئی علیحدہ شکایات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وائرل مواد مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی متعدد ویڈیوز پر مشتمل ہے، جن میں مبینہ طور پر کیمپس انچارج کو غیر متوازن حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔
انکوائری کمیٹی کو جمع کرائی گئی تحریری درخواستوں میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ پروفیسر ڈیوٹی کے دوران نشے کی حالت میں نظر آتے تھے، لیکچرز کے دوران غیر واضح گفتگو کرتے اور نامناسب رویہ اختیار کرتے تھے۔ بعض شکایات میں طلبہ کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اساتذہ اور طلبہ نے احتجاجاً کلاسوں کا بائیکاٹ کیا، جس کے بعد صوبائی وزیر کو مداخلت کرنا پڑی۔
یونیورسٹی حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک پروفیسر کو انتظامی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جامعہ سندھ کے ڈین فیکلٹی آف بزنس اینڈ کامرس ڈاکٹر جاوید کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو تحقیقات کرے گی۔


