وزیرِاعظم شہباز شریف امریکی بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے، دفترِ خارجہ

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف امریکہ میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے جبکہ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ اجلاس 19 فروری کو یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہوگا جبکہ وزیرِاعظم 18 فروری کو واشنگٹن پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفد کی دیگر تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔

پاکستان نے 22 جنوری کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کرکے بانی رکن کی حیثیت اختیار کی تھی۔ یہ بورڈ ستمبر 2025 میں تجویز کیا گیا تھا اور گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر قائم ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس کو اس کا ہیڈکوارٹر مقرر کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نومبر 2025 کی قرارداد کے تحت اس بورڈ کو غزہ میں جنگ بندی کے بعد استحکام کے لیے بین الاقوامی فورس قائم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، تاہم جنگ بندی نازک صورتحال سے دوچار ہے۔

بورڈ میں فلسطینی نمائندگی نہ ہونے پر ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے نیک نیتی سے اور آٹھ اسلامی عرب ممالک کی اجتماعی آواز کے طور پر اس بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق، امن اور خوشحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق القدس الشریف کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا رہے گا۔

بھارت کے رافیل طیارے مار گرائے، ترجمان

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے امریکی صدر کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں مئی 2025 کی چار روزہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران 10 طیارے گرائے جانے کا ذکر کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس 90 گھنٹے کی جنگ کے دوران متعدد بھارتی رافیل طیارے مار گرائے اور اس کے شواہد بین الاقوامی سطح پر موجود ہیں۔ ان کے بقول پاکستان نے روایتی صلاحیتوں کے ذریعے بھارتی جارحیت کو روکا اور آئندہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

کرکٹ کو سیاست کی نذر کرنا افسوسناک

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کے فیصلے سے متعلق سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ کرکٹ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی بائیکاٹ کا فیصلہ کرکٹ کو سیاست سے دور رکھنے کے عزم کا اظہار تھا، تاہم بعد میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کی رابطہ کاری اور متعلقہ حکام کی جانب سے صورتحال کا ادراک ہونے کے بعد پاکستان نے میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔

ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِاعظم کی فراخدلی اور اس بات کا مظہر ہے کہ کرکٹ کو سیاسی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں