ڈھاکہ (ایم این این) – Bangladesh Nationalist Party نے جمعہ کو ہونے والے عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے شاندار کامیابی سمیٹ لی۔ یہ نتیجہ 2024 میں سابق وزیراعظم Sheikh Hasina کی معزولی کے بعد جاری سیاسی ہنگامہ آرائی کے خاتمے اور استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابی کمیشن کے مطابق بی این پی نے 181 نشستیں حاصل کیں، جبکہ Jamaat-e-Islami Bangladesh کو 61 نشستیں ملیں۔ دیگر جماعتوں نے 7 نشستیں حاصل کیں۔ جماعتِ اسلامی اور اس کے اتحادیوں کو مجموعی طور پر 70 نشستیں ملیں۔ مکمل سرکاری نتائج کا اعلان دوپہر تک متوقع تھا۔
تقریباً 20 سال بعد اقتدار میں واپسی کرنے والی بی این پی نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور ملک و قوم کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی۔ پارٹی نے واضح کیا کہ بھاری اکثریت کے باوجود کوئی جشن یا ریلی منعقد نہیں کی جائے گی۔
نوجوان کارکنوں کی قیادت میں قائم نیشنل سٹیزن پارٹی، جو حسینہ مخالف تحریک میں سرگرم رہی اور جماعت اسلامی اتحاد کا حصہ تھی، 30 میں سے صرف 5 نشستیں جیت سکی۔
175 ملین آبادی والے مسلم اکثریتی ملک میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہنگاموں اور پرتشدد مظاہروں نے روزمرہ زندگی اور گارمنٹس انڈسٹری کو متاثر کیا تھا، جس میں بنگلہ دیش عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے۔ ماہرین کے مطابق واضح اکثریت سے نئی حکومت کو اصلاحات نافذ کرنے اور سیاسی استحکام قائم کرنے میں مدد ملے گی۔
بی این پی کے سربراہ Tarique Rahman کے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھانے کی توقع ہے۔ وہ پارٹی کے بانی اور سابق صدر Ziaur Rahman کے صاحبزادے ہیں اور 18 سال جلاوطنی کے بعد گزشتہ دسمبر میں ڈھاکہ واپس آئے تھے۔
پارٹی کے منشور میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کم آمدنی والے طبقے کے تحفظ، کسانوں کو منصفانہ قیمتوں کی فراہمی اور معاشی استحکام کو ترجیح دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
انتخابی نتائج واضح ہوتے ہی ڈھاکہ میں بی این پی ہیڈکوارٹر کے باہر کارکنوں کی بڑی تعداد نے جشن منایا اور نعرے بازی کی۔ ووٹر ٹرن آؤٹ گزشتہ انتخابات کے 42 فیصد کے مقابلے میں تقریباً 60 فیصد تک پہنچ گیا۔
آئینی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم بھی انتخابات کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں وزرائے اعظم کے لیے دو مدتوں کی حد، عدلیہ کی خودمختاری میں اضافہ، خواتین کی نمائندگی، انتخابی ادوار میں غیرجانبدار عبوری حکومت اور 300 رکنی پارلیمان میں ایوانِ بالا کے قیام کی تجاویز شامل تھیں۔
جلاوطنی میں نئی دہلی میں مقیم شیخ حسینہ کی جماعت Awami League اس بار انتخابات میں حصہ لینے سے محروم رہی۔ بی این پی کی 200 سے زائد نشستوں کی کامیابی اس کی تاریخ کی بڑی فتوحات میں شمار ہو رہی ہے، جو 2001 کی 193 نشستوں کی کامیابی سے بھی زیادہ ہے۔
صدر اور وزیر اعظم پاکستان کی مبارکباد
Asif Ali Zardari اور Shehbaz Sharif نے بی این پی اور طارق رحمان کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی۔ صدر زرداری نے بنگلہ دیش میں کامیاب انتخابات پر عوام کو بھی سراہا اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے نئی پیش رفت اہم ثابت ہو سکتی ہے، بالخصوص South Asian Association for Regional Cooperation جیسے فورمز کو فعال بنانے کے لیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ نئی قیادت کے ساتھ مل کر تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے خواہاں ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ Ishaq Dar نے بھی طارق رحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے بنگلہ دیش کے روشن مستقبل کی امید ظاہر کی۔
بھارت کے وزیراعظم کی مبارکباد
Narendra Modi نے بھی بی این پی کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ فتح بنگلہ دیشی عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری، ترقی پسند اور ہمہ گیر بنگلہ دیش کی حمایت جاری رکھے گا۔


