سیکیورٹی کونسل نے افغانستان پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کا مینڈیٹ ایک سال کے لیے بڑھا دیا

0
1

نیویارک (ایم این این) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے 1988 افغانستان پابندیوں کی کمیٹی کی معاون مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ میں ایک سال کی توسیع کر دی، جو طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرتی ہے۔

امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں کونسل کے تمام 15 ارکان نے ووٹ دیا، جس کے تحت مانیٹرنگ ٹیم کا مینڈیٹ 17 فروری 2027 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ توسیع ایسے وقت میں کی گئی ہے جب افغانستان کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، متعدد دہشت گرد گروہوں کے بڑھتے اثر و رسوخ اور خطے میں عدم استحکام کے خدشات پر عالمی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے)، مجید بریگیڈ اور القاعدہ سے درپیش مسلسل خطرات کو اجاگر کیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ گروہ پاکستان کے خلاف بدترین دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار رہے ہیں اور صرف رواں ماہ ہونے والے حملوں میں 80 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا، لہٰذا طالبان پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ افغانستان کو تنہائی کے راستے پر لے جانا چاہتے ہیں یا ایک ذمہ دار رکن کے طور پر امن اور خوشحالی کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار نے افغانستان میں انسانی بحران پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں خواتین اور بچیوں کے سنگین انسانی حقوق کے مسائل، معاشی تباہی، سیاسی محرومی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے چیلنجز کو درست طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ قرارداد کے ذریعے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننی چاہیے اور تمام رکن ممالک کو یرغمالیوں یا دہشت گرد گروہوں کو فائدہ پہنچانے والی تاوان کی ادائیگی یا سیاسی رعایتوں سے گریز کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 37ویں رپورٹ، جو اسی ہفتے جاری کی گئی، میں افغانستان کو متعدد دہشت گرد تنظیموں کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان حکام بعض گروہوں، بالخصوص ٹی ٹی پی، کو ایک سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ اس میں سرحد پار حملوں، کمزور طبقات کی انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے اور عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے سیٹلائٹ مواصلات اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

اگرچہ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ملک میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، تاہم مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق اقوام متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے اس مؤقف کی حمایت نہیں کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ افغان حکام نے داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور بعض گروہوں کی بیرونی سرگرمیوں پر قابو پایا ہے، لیکن ٹی ٹی پی کو نسبتاً زیادہ آزادی حاصل رہی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ اور علاقائی کشیدگی بڑھی ہے۔

القاعدہ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ تنظیم کی بیرونی کارروائیوں کی نیت اور صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ گروہ بالخصوص ٹی ٹی پی کے لیے تربیتی اور مشاورتی مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے اور عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بڑے حملوں کو ترجیح دیتا ہے، جو خطے سے باہر بھی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔

القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس)، جو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں، جنوب مشرقی افغانستان میں متحرک ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں حقانی نیٹ ورک کا اثر و رسوخ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے رہنما اسامہ محمود اور نائب یحییٰ غوری کے کابل میں موجود ہونے کا امکان ہے جبکہ تنظیم کا میڈیا سیل ہرات سے کام کر رہا ہے۔ رکن ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اے کیو آئی ایس ممکنہ طور پر اتحاد المجاہدین پاکستان جیسے کور گروپوں کے ذریعے بیرونی کارروائیوں پر توجہ دے رہی ہے تاکہ طالبان کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔

ٹی ٹی پی، جو افغانستان سے سرگرم بڑی دہشت گرد تنظیموں میں سے ایک ہے، نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کے خلاف حملے تیز کر دیے ہیں۔ 11 نومبر کو اسلام آباد کی ایک عدالت پر حملے میں 12 افراد جاں بحق ہوئے، جو کئی برس بعد دارالحکومت میں اس نوعیت کا پہلا حملہ تھا۔ اگرچہ تنظیم کو بعض آپریشنل دھچکے بھی لگے، جن میں اکتوبر میں نائب امیر مفتی مزاحم کی ہلاکت شامل ہے، تاہم یہ گروہ بدستور سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔ مانیٹرنگ ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ ٹی ٹی پی القاعدہ سے منسلک گروہوں کے ساتھ تعاون بڑھا سکتی ہے، جس سے خطرہ خطے سے باہر بھی پھیل سکتا ہے۔

داعش خراسان، اگرچہ طالبان کی کارروائیوں اور علاقائی سیکیورٹی اقدامات کے دباؤ میں ہے، تاہم بدخشاں کے قریب شمالی افغانستان اور پاکستانی سرحد کے اطراف نمایاں جنگی صلاحیت رکھتی ہے۔ تنظیم آن لائن بھرتی کے ذریعے اپنی صفوں کو مضبوط بنا رہی ہے اور دیگر مسلح گروہوں سے اتحاد کی کوششوں میں مصروف ہے۔

دیگر تشویش ناک گروہوں میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ یا ترکستان اسلامک پارٹی بھی شامل ہے، جسے مبینہ طور پر افغان سرپرستی حاصل ہے، بشمول شناختی دستاویزات کی فراہمی۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں اس تنظیم کے تقریباً 250 ارکان طالبان پولیس فورس میں شامل ہوئے جبکہ بعض عناصر نے شام اور ہمسایہ ممالک میں موجود جنگجوؤں کو چین کے سنکیانگ خطے میں کارروائیوں کی تیاری کے لیے افغانستان منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی، جو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں، نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کو نشانہ بنایا، جن میں 16 ستمبر کا حملہ بھی شامل ہے جس میں 32 فوجی ہلاک ہوئے۔ اگرچہ پاکستانی انسداد دہشت گردی کارروائیوں نے اس کی سرگرمیوں کو محدود کیا ہے، تاہم بعض رکن ممالک کے مطابق بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے درمیان تربیت اور وسائل کے اشتراک کے ذریعے رابطے موجود ہیں۔

مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے نکات سلامتی کونسل میں افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور موجودہ پابندیوں کی مؤثریت پر آئندہ غور و خوض کی بنیاد بنیں گے۔ پاکستان اور دیگر رکن ممالک نے زور دیا ہے کہ طالبان دہشت گرد گروہوں کے خلاف مسلسل اور قابل تصدیق اقدامات کریں، افغان سرزمین کو بیرونی حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں اور عالمی امن و سلامتی سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں