عمران خان کی بینائی سے متعلق انکشاف کے بعد اپوزیشن کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی بینائی متاثر ہونے کے انکشاف کے ایک روز بعد اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دے دیا اور فوری طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف پندرہ فیصد رہ گئی ہے، جس پر تحریک انصاف نے شدید ردعمل دیا۔ اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا کہ جب تک عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا جاتا، دھرنا جاری رہے گا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام پارلیمانی اراکین دھرنے میں شریک ہوں گے۔ پارٹی رہنما اسد قیصر نے بتایا کہ اراکین پارلیمنٹ تمام رکاوٹوں کے باوجود پارلیمنٹ پہنچے اور موجودہ صورتحال پر مشاورت کی۔

بعد ازاں دھرنا پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر راہداری میں منتقل کر دیا گیا جہاں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی قیادت میں احتجاج جاری رہا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالج کی موجودگی میں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

اپوزیشن اتحاد نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ جانے والی سڑکیں بند کی گئیں اور پارلیمانی لاجز کے دروازے بند کر کے اراکین کو اندر محصور رکھا گیا تاکہ وہ احتجاج میں شریک نہ ہو سکیں۔ رہنماؤں نے ان اقدامات کو کمزوری کی علامت قرار دیا۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے ارکان نے بھی وفاقی دارالحکومت میں خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ انہیں پارلیمنٹ جانے سے روکا گیا اور بعض کارکنوں کے ساتھ دھکم پیل کی گئی۔

پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اپوزیشن کو احتجاج کا حق حاصل ہے اور حکومت کی جانب سے کسی ناکہ بندی کا اقدام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عمران خان کی صحت کے معاملے میں کوئی غفلت نہیں برتی جائے گی اور اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان جہاں چاہیں طبی معائنے کے لیے لے جایا جائے گا، چاہے وہ شفا انٹرنیشنل اسپتال ہو یا کوئی اور ماہر ڈاکٹر۔ ان کا کہنا تھا کہ آنکھوں کے ماہرین سے مکمل معائنہ کرایا جائے گا اور ہر ممکن علاج فراہم کیا جائے گا۔

وزیر نے بینائی کی خرابی سے متعلق حالیہ دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ملاقاتوں اور طبی معائنوں کے دوران یہ معاملہ سامنے نہیں آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نئی طبی رپورٹ جلد جاری کی جائے گی اور چیف جسٹس پاکستان خود اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ادھر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے طبی معائنے کے لیے باقاعدہ تحریری احکامات جاری کیے جائیں تاکہ انہیں ماہر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی علاج فراہم کیا جا سکے۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی کہا کہ تحریری حکم نامے کے بغیر عدالتی ہدایات پر عمل درآمد ممکن نہیں۔

عوام پاکستان پارٹی کی قیادت نے بھی دھرنے میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قیدی کو بروقت اور مناسب طبی سہولیات سے محروم رکھنا غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔ پارٹی نے آئین کی بالادستی، جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے اپوزیشن کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں