اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی Imran Khan کو ان کی صحت کے پیش نظر اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔
طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور ان کی طبی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو ترجیح دیتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور پی ٹی آئی کو بے بنیاد پروپیگنڈا اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے اور اس معاملے پر سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔
قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان کی آنکھوں کے جاری علاج کے سلسلے میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہر امراض چشم کے ذریعے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلی میڈیکل رپورٹ Supreme Court of Pakistan میں جمع کرائی جائے گی اور قیاس آرائیوں اور سیاسی مقاصد کے لیے اس معاملے کو استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔
اپوزیشن کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس اور کے پی ہاؤس میں دھرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر Shifa International Hospital منتقل کیا جائے۔
دھرنے کا اعلان اس وقت کیا گیا جب سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، جس پر پارٹی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
دھرنے کی قیادت ٹی ٹی اے پی کے چیئرمین Mehmood Khan Achakzai کر رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹر علی ظفر، اسد قیصر، جنید اکبر اور دیگر رہنما بھی شریک ہیں۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ حکومتی اعلان خوش آئند ہے لیکن جب تک عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا جاتا اور میڈیکل بورڈ میں فیملی فزیشن شامل نہیں کیا جاتا، دھرنا ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بند کرنے کے اقدام کو ملکی تاریخ میں افسوسناک قرار دیا۔
ٹی ٹی اے پی کے ترجمان اخونزادہ یوسفزئی نے کہا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنا اصولی مؤقف ہے اور انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کرنے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے میڈیکل بورڈ میں ذاتی معالج کی شمولیت کا مطالبہ بھی دہرایا۔
پارلیمنٹ کو جیل بنا دیا گیا
اپوزیشن رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کو عملاً جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ارکان گزشتہ روز سے پارلیمنٹ کے اندر موجود ہیں اور باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور اس کے احاطے کو جیل بنا دینا قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بھی دیگر قیدیوں کی طرح قانونی حقوق رکھتے ہیں اور ملک و بیرون ملک پاکستانی ان کی صحت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس کو محصور کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے پر آمادگی ہے تو تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی رہنما شاندانہ گلزار نے چیف جسٹس Yahya Afridi کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے طبی معائنے کے لیے چار دن کی مہلت دینا افسوسناک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی رویہ کسی اور اہم شخصیت کے معاملے میں اختیار کیا جاتا؟
جے یو آئی (ف) کے ترجمان اسلم غوری نے بھی پارلیمنٹ کے باہر مظاہرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ گرفتار رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے۔
مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی اپیل
نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ نواز کھوکھر، سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اور ڈاکٹر ظفر مرزا نے حکومت کو خبردار کیا کہ حالات کو مزید خراب نہ کیا جائے۔ انہوں نے فوری طور پر عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے اور اہل خانہ کو رسائی دینے کا مطالبہ کیا۔
صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان (پی آر اے پی) نے دھرنے کی کوریج کے دوران صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور رکاوٹوں کی شدید مذمت کی۔ صدر ایم بی سومرو اور سیکریٹری نوید اکبر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صحافیوں کو پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلے سے روکا گیا اور دھکے دیے گئے، جو آزادی صحافت کی خلاف ورزی ہے۔
کے پی کے وزیر اعلیٰ کی کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت سیاست سے زیادہ اہم ہے اور کسی کو بھی احتجاج کو پرتشدد رخ دینے کا موقع نہ دیا جائے۔
علیمہ خان کی سپریم کورٹ پر تنقید
عمران خان کی بہن علیمہ خانم نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری احکامات جاری نہ ہونے کے باعث علاج میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واضح عدالتی حکم کے بغیر حکومت ہنگامی طبی سہولت فراہم نہیں کرے گی۔
پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب خان نے بھی مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے، کیونکہ ہر لمحے کی تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سیاسی کشیدگی کے اس ماحول میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ برقرار ہے، جبکہ بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ عمران خان کو فوری اور مکمل طبی سہولت فراہم کی جائے۔


