ویب ڈیسک (ایم این این): امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ بورڈ آف پیس کے رکن ممالک نے غزہ کی پٹی میں متوقع بین الاقوامی استحکامی فورس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر بیان میں انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کا باضابطہ اعلان 19 فروری کو واشنگٹن میں ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہونے والے بورڈ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق رکن ممالک نے غزہ میں انسانی امداد اور تعمیر نو کی کوششوں کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زائد رقم فراہم کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں اہلکار بین الاقوامی استحکامی فورس اور مقامی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے میں کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس کو مکمل اور فوری غیر مسلح ہونے کے اپنے عزم پر قائم رہنا ہوگا۔ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کو تاریخ کا اہم ترین بین الاقوامی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز ہے۔
اس سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی تھی کہ وزیر اعظم شہباز شریف بورڈ آف پیس کے آئندہ اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔
بورڈ آف پیس کی تجویز ستمبر 2025 میں پیش کی گئی تھی اور گزشتہ ماہ اسے باضابطہ طور پر قائم کیا گیا۔ اس کے منشور کے تحت امریکی حکومت اس کی سرکاری امین ہے اور اس کا صدر دفتر واشنگٹن میں قائم کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گزشتہ برس نومبر میں منظور کی گئی قرارداد کے تحت اس بورڈ اور معاون ممالک کو غزہ میں جنگ بندی کے بعد بین الاقوامی استحکامی فورس قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ جنگ بندی اکتوبر میں ایک منصوبے کے تحت عمل میں آئی تھی جسے اسرائیل اور حماس نے قبول کیا تھا، تاہم اس پر عملدرآمد اب تک نازک صورتحال کا شکار ہے۔
ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد جنگ بندی کے بعد غزہ کے عارضی نظم و نسق کی نگرانی تھا، تاہم بعد ازاں اس کے دائرہ کار کو عالمی تنازعات تک توسیع دے دی گئی۔


