جنیوا (MNN) – ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کو امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوسرے اہم دور کے لیے جنیوا پہنچ گئے، جس کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ فوجی تصادم کو روکنا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای خبردار کر چکے ہیں کہ کسی بھی تصادم سے علاقائی جنگ بھڑک سکتی ہے۔
عراقچی نے کہا کہ وہ منصفانہ معاہدے کے لیے عملی تجاویز کے ساتھ جنیوا آئے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران دباؤ کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کر چکا ہے۔
عراقچی نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی سے ملاقات کی اور گہرے تکنیکی مذاکرات کی توقع ظاہر کی۔ IAEA ان ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی کا مطالبہ کر رہی ہے جو جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران بمباری سے متاثر ہوئیں۔ ایران نے ممکنہ تابکاری خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے باقاعدہ طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن کا مؤقف اب “زیادہ حقیقت پسندانہ” ہو چکا ہے اور آنے والے مذاکرات میں IAEA اہم کردار ادا کرے گا۔ تاہم انہوں نے گروسی پر تنقید بھی کی کہ انہوں نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔
عراقچی عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی سے بھی ملاقات کریں گے، جنہوں نے پہلے دور کے مذاکرات میں ثالثی کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ایران یورینیم افزودگی کی سطح کم کرنے اور عالمی نگرانی کے لیے زیادہ شفافیت اختیار کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہنگری میں کہا کہ سفارتی معاہدے کا امکان موجود ہے، لیکن یہ عمل مشکل ہوگا۔ ایران نے صفر افزودگی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے میزائل پروگرام کو ناقابلِ مذاکرات قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے آبنائے ہرمز میں “اسمارٹ کنٹرول آف دی اسٹریٹ آف ہرمز” کے نام سے فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں تاکہ بحری تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق جاری سفارتی کوششوں کے ساتھ بھی ہو رہے ہیں، تاہم فوری پیش رفت کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔


