اسپورٹس ڈیسک (ایم این این) – بھارت کے لیجنڈری کرکٹر سنیل گواسکر اور کپل دیو سمیت دنیا بھر کے درجن بھر سابق بین الاقوامی کپتانوں نے سابق وزیراعظم اور نامور آل راؤنڈر عمران خان کے لیے جیل میں بہتر سلوک اور طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں سزا پانے کے بعد جیل میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2022 میں پارلیمانی ووٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔
گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ حراست کے دوران سابق وزیراعظم کی دائیں آنکھ کی بینائی نمایاں طور پر متاثر ہوئی۔ پیر کو میڈیکل بورڈ نے بتایا کہ علاج کے بعد سوجن میں کمی آئی ہے اور بینائی میں بہتری آئی ہے۔
منگل کو گواسکر اور کپل دیو نے ایک درخواست پر دستخط کیے جس میں عمران خان کے جیل حالات اور ان کے ساتھ برتاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس مہم کی قیادت سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل کر رہے ہیں۔
درخواست پر دستخط کرنے والوں میں ایان چیپل، ایلن بارڈر، اسٹیو وا، بیلنڈا کلارک، کم ہیوز، انگلینڈ کے مائیک ایتھرٹن، ناصر حسین، مائیک بریئرلی، ڈیوڈ گوور، ویسٹ انڈیز کے کلائیو لائیڈ اور نیوزی لینڈ کے جان رائٹ شامل ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ ان میں سے کئی کھلاڑیوں نے عمران خان کے خلاف میدان میں مقابلہ کیا، ان کے ساتھ کھیلے یا ان کی آل راؤنڈ صلاحیتوں، کرشماتی شخصیت اور مسابقتی جذبے کو سراہا۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ طبی رپورٹس، خصوصاً حراست کے دوران بینائی میں تشویشناک کمی اور گزشتہ ڈھائی برس کے جیل حالات نے انہیں سخت پریشان کیا ہے۔
سابق کپتانوں نے کہا کہ کرکٹ ہمیں منصفانہ کھیل، عزت اور احترام کی اقدار سکھاتی ہے جو میدان کی حدود سے بالاتر ہیں، اس لیے عمران خان جیسی شخصیت کو، جو سابق قومی رہنما اور عالمی اسپورٹس آئیکون ہیں، باوقار اور انسانی ہمدردی پر مبنی سلوک ملنا چاہیے۔
انہوں نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ عمران خان کو فوری اور مکمل طبی سہولیات، باعزت برتاؤ اور قانونی عمل تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ میدان کی رقابت وکٹیں گرنے کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے مگر باہمی احترام باقی رہتا ہے، اور عمران خان نے اپنے کیریئر میں اسی جذبے کی نمائندگی کی۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف کے دفتر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اسے تاحال کپتانوں کا بیان موصول نہیں ہوا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بیان میں بین الاقوامی کرکٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق وزیراعظم کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ پارٹی نے امید ظاہر کی کہ دنیا بھر کے موجودہ اور سابق کرکٹرز انصاف کی فراہمی تک عمران خان کی حمایت جاری رکھیں گے۔
پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک اس وقت سیاسی انتقام کا نشانہ بن کر جیل میں قید ہیں اور انہیں بنیادی انسانی حقوق اور ضروری طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کی کرکٹ برادری نے بھی سابق کپتان کی صحت پر تشویش ظاہر کی تھی۔ سابق کپتان وسیم اکرم، جو 1992 کے ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے، نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر انہیں دلی صدمہ پہنچا ہے۔ سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے بھی آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی خبر پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔


