لاہور (ایم این این) – پنجاب حکومت کی جانب سے وی آئی پی سفری مقاصد کے لیے جدید گلف اسٹریَم طیارہ خریدنے کی خبروں پر سرکاری حلقے تاحال خاموش ہیں، تاہم سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس مبینہ اقدام پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دفاعی اور سیکیورٹی امور سے متعلق معلومات شیئر کرنے والے اکاؤنٹ "دی اسٹریٹ کام بیورو” نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ حکومتِ پنجاب نے 2019 میں تیار کیا گیا گلف اسٹریَم جی وی آئی آئی-جی 500 طیارہ وی آئی پی ٹرانسپورٹ کے لیے حاصل کر لیا ہے۔
اسی اکاؤنٹ کی جانب سے ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ اس لگژری طیارے کا رجسٹریشن نمبر این 144 ایس ہے اور جلد اس کی امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی رجسٹریشن کو پاکستانی رجسٹریشن میں تبدیل کیا جائے گا۔ پوسٹ میں طیارے کی ممکنہ قیمت 3 کروڑ 80 لاکھ سے 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے درمیان بتائی گئی۔
رجسٹریشن اور ملکیت کی تفصیلات
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے ریکارڈ کے مطابق مذکورہ طیارہ اس وقت ٹی وی پی ایکس ایئرکرافٹ سلوشنز انکارپوریٹڈ ٹرسٹی کی ملکیت ظاہر کیا گیا ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ادارہ عموماً ایئرکرافٹ ٹرسٹس کے لیے رجسٹرڈ مالک کے طور پر کام کرتا ہے اور غیر امریکی شہریوں یا رازداری کے خواہاں خریداروں کے لیے جہازوں کی خرید و فروخت اور لیزنگ میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ ریڈار کے مطابق یہ طیارہ کم از کم 12 فروری سے پنجاب کے مختلف ہوائی اڈوں کے درمیان پروازیں کرتا دیکھا گیا ہے، جس کے بعد قیاس آرائیوں میں مزید شدت آگئی۔
سرکاری حکام کی خاموشی
خریداری کی خبروں کی تصدیق کے لیے متعدد سرکاری حکام سے رابطہ کیا گیا، تاہم کسی جانب سے واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
پنجاب کے چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری احمد رضا سرور نے فون کالز اور پیغامات کا جواب نہیں دیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری (ویلفیئر) وسیم حمید نے البتہ طیارہ خریدنے کے دعوے کی تردید کی، تاہم انہوں نے مختصر گفتگو کے بعد فون منقطع کر دیا۔
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری سے بھی رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جانب سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ سرکاری سطح پر اس خاموشی نے شکوک و شبہات کو مزید ہوا دی ہے۔
سیاسی حلقوں میں تنقید
حکام کی خاموشی کے درمیان مبینہ خریداری پر اپوزیشن رہنماؤں اور معاشی ماہرین کی جانب سے تنقید سامنے آ رہی ہے۔
سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے سوشل میڈیا پر اس خبر کو شیئر کرتے ہوئے اسے حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عوام سے کفایت شعاری اور قربانی کا تقاضا کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف وی آئی پیز عیش و عشرت کے لیے نجی طیاروں میں سفر کی تیاری کر رہے ہیں۔
اسی طرح سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے بھی سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ارب روپے سے زائد مالیت کا طیارہ وزیراعلیٰ اور پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کے استعمال کے لیے خریدا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک ایسا ملک، جہاں تقریباً 45 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہو اور بے روزگاری کی شرح ریکارڈ سطح پر ہو، اس قسم کی لگژری خریداری کا متحمل ہو سکتا ہے؟
محمد زبیر نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ خبر درست نہیں تو پنجاب حکومت کو واضح تردید جاری کرنی چاہیے۔
معاشی حالات اور عوامی ردعمل
پاکستان اس وقت مہنگائی، بیروزگاری اور مالی دباؤ جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی سرکاری سطح پر مہنگی خریداری کی خبر عوامی ردعمل کو جنم دے سکتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو اس طرح کے معاملات میں شفافیت اختیار کرنی چاہیے تاکہ غیر ضروری افواہوں اور سیاسی تنقید سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر طیارہ سرکاری استعمال یا ہنگامی سفارتی و انتظامی ضروریات کے لیے خریدا گیا ہو تو اس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں، تاکہ معاملہ قیاس آرائیوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر زیر بحث آئے۔
وضاحت کا انتظار
تاحال پنجاب حکومت کی جانب سے اس مبینہ خریداری کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ حکومتی وضاحت کے بغیر یہ معاملہ سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا صوبائی حکومت اس معاملے پر باضابطہ بیان جاری کرتی ہے یا نہیں، اور اگر طیارہ واقعی حاصل کیا گیا ہے تو اس کی ضرورت، مالی وسائل اور استعمال کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کیا جاتا ہے۔


