ڈھاکہ میں اقتدار کی تبدیلی: طارق رحمان نے بنگلہ دیش کے وزیرِاعظم کا حلف اٹھا لیا

0
2

ڈھاکہ (ایم این این) – بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی اُس وقت سامنے آئی جب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما طارق رحمان نے منگل کے روز ملک کے نئے وزیرِاعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ ان کی جماعت کی شاندار پارلیمانی کامیابی کے بعد یہ پیش رفت جنوبی ایشیائی ملک میں اقتدار کے ایک نئے باب کا آغاز سمجھی جا رہی ہے۔

ساٹھ سالہ طارق رحمان سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیاء اور مقتول صدر ضیاء الرحمٰن کے صاحبزادے ہیں۔ وہ ایک ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب ملک کو سیاسی استحکام کی بحالی، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی واپسی اور معیشت کی بحالی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ خاص طور پر گارمنٹس صنعت، جو بنگلہ دیش کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، گزشتہ برس نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی تحریک اور سیاسی ہلچل کے باعث شدید متاثر ہوئی تھی۔

عبوری دور کا اختتام اور جمہوری تسلسل

گزشتہ سال ہونے والی عوامی تحریک، جسے جنرل زیڈ نسل کی قیادت حاصل تھی، کے نتیجے میں اُس وقت کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ایک عبوری انتظامیہ قائم کی گئی۔ اس عبوری حکومت کی قیادت نوبل انعام یافتہ ماہرِ معیشت محمد یونس نے کی، جنہوں نے ملک کو انتخابی عمل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی سربراہی میں عبوری سیٹ اپ نے انتخابی تیاریوں اور سیاسی مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھایا۔

انتخابات کے انعقاد کے بعد اقتدار باضابطہ طور پر منتخب نمائندوں کو منتقل کر دیا گیا، جسے مبصرین جمہوری تسلسل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

غیر روایتی مقام پر حلف برداری کی تقریب

روایتی انداز سے ہٹ کر وزیرِاعظم کی حلف برداری کی تقریب صدارتی محل کے بجائے قومی پارلیمان کی عمارت، جاتیہ سانگساد بھابن کے ساؤتھ پلازہ میں کھلے آسمان تلے منعقد ہوئی۔ یہ فیصلہ ایک علامتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد عوامی شمولیت اور شفافیت کا پیغام دینا تھا۔

صدر محمد شہاب الدین نے طارق رحمان اور ان کی کابینہ سے حلف لیا۔ اس موقع پر اعلیٰ سیاسی رہنما، سفارت کار، سول و عسکری حکام اور چین، بھارت اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے نمائندے موجود تھے۔

انتخابی نتائج اور سیاسی منظرنامہ

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے تقریباً دو دہائیوں بعد اقتدار میں واپسی کی ہے۔ پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے مجموعی طور پر 212 نشستیں جیتیں، جو ایک فیصلہ کن برتری ہے۔

جماعتِ اسلامی، جس پر 2013 میں پابندی عائد کی گئی تھی اور بعد ازاں اس کی رجسٹریشن بحال کی گئی، نے اس بار 68 نشستیں حاصل کیں، جو اس کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ جماعت اور اس کے اتحادی، جن میں نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہے، پارلیمان میں اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔

شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے رجسٹریشن منسوخ کیے جانے کے بعد انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یوں اس مرتبہ سیاسی میدان میں نئی صف بندی دیکھنے میں آئی۔

سیاسی سفر: جلاوطنی سے اقتدار تک

طارق رحمان کی سیاسی زندگی اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی ہے۔ وہ سترہ برس تک لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے رہے اور گزشتہ برس وطن واپس آئے۔ ان کی واپسی کے کچھ عرصے بعد ان کی والدہ خالدہ ضیاء کا انتقال ہوا، جس نے سیاسی فضا کو مزید جذباتی بنا دیا۔

ان کے ناقدین ماضی میں ان پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جنہیں وہ مسلسل مسترد کرتے آئے ہیں۔ تاہم ان کی واپسی نے پارٹی کارکنان میں نیا جوش پیدا کیا اور انتخابی مہم کو نئی سمت دی۔

انتخابی کامیابی کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کسی قسم کی افراتفری برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے انتقامی سیاست سے گریز کرنے کی اپیل کی اور قومی مفاہمت کا پیغام دیا۔

ارکانِ پارلیمان کا حلف اور خواتین کی نمائندگی

حلف برداری سے قبل نو منتخب ارکانِ پارلیمان نے بھی وفاداری کا حلف اٹھایا۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے ان سے حلف لیا۔ یہ وہ پہلے منتخب نمائندے ہیں جو 2024 کی خونی تحریک کے بعد پارلیمان کا حصہ بنے ہیں۔

براہِ راست منتخب ہونے والی خواتین کی تعداد صرف سات رہی، تاہم خواتین کے لیے مختص پچاس اضافی نشستیں جماعتوں کو ان کے ووٹ شیئر کے مطابق الاٹ کی جائیں گی۔ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے چار امیدوار بھی کامیاب ہوئے، جن میں دو ہندو نمائندے شامل ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہندو برادری کی آبادی تقریباً سات فیصد ہے۔

سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کی توقعات

اگرچہ انتخابات سے قبل کئی ہفتوں تک ملک میں سیاسی کشیدگی رہی، تاہم پولنگ کا دن مجموعی طور پر پرامن رہا اور نتائج کے اعلان کے بعد بھی صورتحال نسبتاً پرسکون ہے۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی حکومت کی اصل آزمائش معاشی محاذ پر ہوگی۔ اگر معیشت کو مستحکم کیا گیا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا تو دیگر مسائل سے نمٹنا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔ گارمنٹس برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوں گے۔

پاکستان کی جانب سے مبارکباد اور تعاون کی خواہش

وزیرِاعظم طارق رحمان کی حلف برداری کے بعد پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے انہیں مبارکباد دی اور ان کی جماعت کی کامیابی کو فیصلہ کن قرار دیا۔ صدارتی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں بنگلہ دیش کے لیے استحکام اور خوشحالی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کی امید ظاہر کی گئی۔

پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے بھی گرمجوشی سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب کے ساتھ قریبی اور بامعنی روابط کے خواہاں ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال بھی ڈھاکہ میں موجود تھے۔ انہوں نے تقریب میں شرکت کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ تجارت، فضائی رابطوں اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے سابق عبوری سربراہ محمد یونس سے بھی ملاقات کی اور کامیاب انتخابی عمل پر مبارکباد دی۔ ان کے مطابق موجودہ علاقائی اور جغرافیائی سیاسی حالات میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون اور رابطہ سازی ناگزیر ہے۔

نئے دور کا آغاز

طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ عوام کی توقعات بلند ہیں اور ملک کو درپیش معاشی و سماجی چیلنجز فوری اور مؤثر اقدامات کے متقاضی ہیں۔ سیاسی استحکام، ادارہ جاتی مضبوطی، نوجوانوں کی شمولیت اور علاقائی تعاون وہ عوامل ہوں گے جو آنے والے برسوں میں بنگلہ دیش کی سمت کا تعین کریں گے۔

نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ وہ سیاسی تقسیم کو کم کرتے ہوئے قومی ہم آہنگی کو فروغ دے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے۔ جنوبی ایشیا کی سیاست میں اس پیش رفت کو نہ صرف داخلی بلکہ علاقائی تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں