اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں سزا کے خلاف دائر اپیلوں کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کاز لسٹ کے مطابق جسٹس محمد آصف 19 فروری کو اپیلوں پر سماعت کریں گے۔ دونوں وکلا کی سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستیں بھی اسی روز زیر سماعت آئیں گی۔
گزشتہ ماہ اسلام آباد کی سیشن عدالت نے دونوں کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت مختلف دفعات میں مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں، اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل ماجوکا کے تحریری فیصلے کے مطابق استغاثہ نے دفعہ 9، 10 اور 26 اے کے تحت الزامات ثابت کیے۔ دفعہ 9 کے تحت پانچ سال قید اور پچاس لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 10 کے تحت دس سال قید اور تین کروڑ روپے جرمانہ جبکہ دفعہ 26 اے کے تحت دو سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی۔
7 فروری کو دونوں نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ فیصلہ طے شدہ قانونی اصولوں اور لازمی طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس کی منتقلی سے متعلق درخواست ہائی کورٹ میں زیر التوا تھی، اس کے باوجود فیصلہ سنانا غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز تھا۔
انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس اور اس کی شراکت دار تنظیموں نے 29 جنوری کو مشترکہ بیان میں گرفتاری اور سزا کی مذمت کرتے ہوئے رہائی کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے بھی منصفانہ ٹرائل سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے سزا کو تشویشناک قرار دیا۔
یورپی یونین کے ترجمان انور العونونی نے کہا کہ سوشل میڈیا سرگرمی پر سزا اظہار رائے کی آزادی اور وکلا کی خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہے جو پاکستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں کا حصہ ہیں۔
4 فروری کو اقوام متحدہ کے پانچ خصوصی نمائندوں نے بھی طویل سزاؤں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلا سمیت ہر فرد کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے اور اسے دہشت گردی سے جوڑنا انسانی حقوق کے کارکنوں کے کام کو مجرمانہ بنانے کے مترادف ہے، جس سے ملک میں سول سوسائٹی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


