واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے تائی پے میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ وہ تائیوان کو ممکنہ اسلحہ فروخت کے معاملے پر چینی صدر شی جن پنگ سے بات چیت کر رہے ہیں۔ تائیوان چین کے علاقائی دعوؤں کے باعث امریکی حمایت پر انحصار کرتا ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شی جن پنگ سے اس معاملے پر بات کی ہے اور جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے چینی صدر کے ساتھ اپنے تعلقات کو “بہت اچھا” قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ بیان امریکی خارجہ پالیسی کے دیرینہ اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے، خصوصاً 1982 میں رونالڈ ریگن کے دور میں دی گئی “سکس اشورنسز” سے، جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ تائیوان کو اسلحہ فروخت کے معاملے پر چین سے مشاورت نہیں کرے گا۔
چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کا عندیہ بھی دے چکا ہے۔ بیجنگ ان ممالک کو تائیوان کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کرنے سے روکتا ہے جو چین کو تسلیم کرتے ہیں، اور اکثر جزیرے کے قریب فوجی سرگرمیاں کرتا ہے۔
اگرچہ امریکہ کے تائیوان کے ساتھ رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں، تاہم 1979 کے تائیوان ریلیشنز ایکٹ کے تحت وہ جزیرے کو دفاعی صلاحیت فراہم کرنے کا پابند ہے۔ دسمبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے 11 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اسلحہ پیکج کی منظوری دی تھی، جس پر چین نے سخت ردعمل دیا۔
ماہرین کے مطابق امریکہ اور تائیوان کے تعلقات تین ستونوں پر قائم ہیں: تائیوان ریلیشنز ایکٹ، امریکہ چین کے درمیان تین مشترکہ اعلامیے، اور سکس اشورنسز۔
ٹرمپ کا مجوزہ دورہ چین اپریل میں متوقع ہے، جہاں تائیوان کا مسئلہ تجارت اور جدید ٹیکنالوجی جیسے معاملات کے ساتھ اہم موضوع ہوگا۔ مبصرین کے مطابق اس معاملے پر غیر یقینی صورتحال تائیوان میں امریکہ کے عزم سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
ادھر تائیوان کے صدر لائی چنگ تے کی حکومت کو موجودہ اسلحہ پیکجز کی ادائیگی کے لیے پارلیمانی منظوری حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن ارکان 23 فروری کے بعد 40 ارب ڈالر کے خصوصی دفاعی بجٹ کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


