جنیوا مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی، یوکرین جنگ کی چوتھی برسی قریب

0
1
A U.S. delegation led by Special Envoy Steve Witkoff and U.S. President Donald Trump's son-in-law Jared Kushner waits for the start of a meeting on the first day of the third round of trilateral talks between delegates from Ukraine, Russia and the U.S., amid Russia's attack on Ukraine, in Geneva, Switzerland, February 17, 2026. Press service of the National Security and Defence Council of Ukraine/Handout via REUTERS ATTENTION EDITORS - THIS IMAGE HAS BEEN SUPPLIED BY A THIRD PARTY. NO ARCHIVES. NO RESALES

جنیوا: امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان جنیوا میں ہونے والے تازہ مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے، جبکہ روس کے یوکرین پر مکمل حملے کی چوتھی برسی آئندہ ہفتے منائی جائے گی۔

یہ مذاکرات رواں سال امریکہ کی جانب سے منعقد کیے گئے تیسرے براہِ راست مذاکرات تھے۔ اس سے قبل ابوظہبی میں ہونے والے اجلاسوں کو تعمیری قرار دیا گیا تھا، تاہم وہ بھی کسی اہم نتیجے پر منتج نہیں ہوئے۔ جنیوا مذاکرات سے بھی زیادہ توقعات وابستہ نہیں تھیں۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے مذاکرات کو “مشکل” قرار دیتے ہوئے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ جاری رکھتے ہوئے مذاکرات کو طول دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ فوجی امور پر محدود پیش رفت ہوئی ہے، جن میں ممکنہ جنگ بندی کی نگرانی کا طریقہ کار بھی شامل ہے، جس میں امریکی کردار متوقع ہے۔

روسی وفد کے سربراہ ولادیمیر میڈنسکی نے مذاکرات کو “مشکل مگر پیشہ ورانہ” قرار دیا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ نتائج کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے، جبکہ صدر ولادیمیر پوتن کو مذاکرات سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ دونوں فریقوں نے آئندہ دور کے انعقاد پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکہ کی امن کوششوں سے بامعنی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

میدانِ جنگ میں لڑائی بدستور جاری ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق روسی ڈرون حملوں میں جنوبی شہر زاپوریژژیا میں ایک خاتون ہلاک اور دو بچے زخمی ہوئے، جبکہ رات بھر میں ایک بیلسٹک میزائل اور 126 ڈرون داغے گئے۔

زیلنسکی نے بتایا کہ یوکرینی اور امریکی نمائندوں نے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کے حکام سے بھی ملاقات کی۔ ان کے مطابق یورپ کی شرکت امن عمل کے لیے ناگزیر ہے۔

روس اور یوکرین کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہے۔ زیلنسکی نے جنگ بندی اور پوتن سے براہِ راست ملاقات کی پیشکش کی ہے، جبکہ ماسکو جامع معاہدے کے بغیر جنگ بندی پر آمادہ نہیں۔

پوتن نے 24 فروری 2022 کو حملے کے آغاز پر جو اہداف بیان کیے تھے، وہ بدستور برقرار ہیں، جن میں یوکرین کو نیٹو میں شمولیت سے روکنا اور مشرقی علاقوں پر کنٹرول شامل ہے۔ دوسری جانب زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ یوکرین اپنی زمین روس کے حوالے نہیں کرے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں