اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں پانچ جی اسپیکٹرم کی نیلامی 10 مارچ کو ہوگی اور شیڈول میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ ادارے کے مطابق اس نیلامی سے حکومت کو 30 کروڑ سے 70 کروڑ امریکی ڈالر تک حاصل ہو سکتے ہیں۔
نیلامی میں مختلف بینڈز میں مجموعی طور پر 597 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پیش کیا جائے گا جبکہ موجودہ تین ٹیلی کام آپریٹرز کو کم از کم 100 میگا ہرٹز حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
ڈائریکٹر جنرل لائسنسنگ بریگیڈیئر ریٹائرڈ عامر شہزاد نے بریفنگ میں بتایا کہ اگر 300 میگا ہرٹز بھی مقررہ قیمت پر بغیر مقابلہ جاتی بولی کے فروخت ہو جاتا ہے تو حکومت کو 30 کروڑ ڈالر حاصل ہوں گے۔ تاہم اگر پورا 597 میگا ہرٹز مسابقتی نیلامی میں فروخت ہو جائے تو 70 کروڑ ڈالر تک حاصل ہو سکتے ہیں، اگرچہ اس کا امکان کم ہے۔
نیلامی ملٹی راؤنڈ الیکٹرانک کلاک آکشن طریقہ کار کے تحت ہوگی جبکہ 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز پہلے مرحلے میں پیش کیے جائیں گے۔
پی ٹی اے کے چیئرمین حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ نیلامی کے بعد خدمات کے معیار اور ڈیٹا اسپیڈ میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً پانچ کروڑ نئے صارفین نظام میں شامل ہوئے، مگر 2021 کی نیلامی میں صرف 10 میگا ہرٹز اضافہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بہتر ڈیٹا سروس اور کوریج سے فی صارف اوسط آمدن میں بھی اضافہ ہوگا، جو 0.7 ڈالر سے بڑھ کر 1.3 ڈالر ہو چکی ہے اور مزید اضافے کی توقع ہے۔
حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے متعدد مراعات بھی متعارف کرائی ہیں، جن میں سالانہ 36 ہزار روپے فی کلومیٹر رائٹ آف وے فیس کا خاتمہ شامل ہے، جس سے فائبر نیٹ ورک کی توسیع کو فروغ ملے گا۔
چیئرمین کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں نے پانچ جی آلات کے آرڈرز دے دیے ہیں جبکہ ملک میں پانچ جی موبائل فونز کی مقامی تیاری بھی شروع ہو چکی ہے اور اب تک پانچ سے چھ لاکھ یونٹس تیار کیے جا چکے ہیں۔
آپریٹرز کو ایک سال کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ ابتدائی اسپیکٹرم ادائیگی کے بغیر سرمایہ کاری کریں، تاہم انہیں اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ کے علاوہ دیگر شہروں تک بھی پانچ جی کوریج بڑھانا ہوگی۔ فائبر ٹو سائٹ شرح 2035 تک 20 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کی جائے گی۔
چار جی کی کم از کم ڈاؤن لوڈ رفتار 2026-27 تک 20 میگا بائٹس فی سیکنڈ اور 2030-35 تک 50 میگا بائٹس فی سیکنڈ کی جائے گی۔ پانچ جی کے لیے کم از کم رفتار ابتدائی طور پر 50 میگا بائٹس فی سیکنڈ سے بڑھا کر 2030-35 تک 100 میگا بائٹس فی سیکنڈ مقرر کی جائے گی جبکہ لیٹنسی ہدف 35 ملی سیکنڈ ہوگا۔ اپ لوڈ رفتار دونوں ٹیکنالوجیز میں ڈاؤن لوڈ رفتار کے 20 فیصد کے برابر ہوگی۔


