نئی دہلی: بھارت کی نجی درسگاہ گالگوٹیا یونیورسٹی کو نئی دہلی میں منعقدہ ایک اہم مصنوعی ذہانت سمٹ سے اس وقت ہٹا دیا گیا جب اس کے ایک نمائندے نے چینی ساختہ روبوٹک کتے کو یونیورسٹی کی اپنی ایجاد قرار دیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنا اسٹال ختم کرے، جب کمیونیکیشن کی پروفیسر نہا سنگھ نے سرکاری نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز کو بتایا کہ اورین نامی روبوٹک کتا یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس میں تیار کیا گیا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین نے فوری طور پر نشاندہی کی کہ یہ روبوٹ دراصل یونٹری روبوٹکس کمپنی کا تیار کردہ یونٹری گو ٹو ماڈل ہے، جو تقریباً سولہ سو ڈالر میں فروخت ہوتا ہے اور تعلیمی و تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بعد ازاں نہا سنگھ نے وضاحت کی کہ انہوں نے اسے یونیورسٹی کی ایجاد قرار نہیں دیا بلکہ صرف ایک نمائش کے طور پر پیش کیا تھا۔
ابتدائی بیان میں گالگوٹیا یونیورسٹی نے واقعے کو منفی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا، تاہم اگلے روز جاری بیان میں یونیورسٹی نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ نمائندہ میڈیا سے بات کرنے کی مجاز نہیں تھیں اور مصنوعات کی تکنیکی اصل سے لاعلم تھیں۔
یہ واقعہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران پیش آیا، جس میں بیس سے زائد ممالک کے سربراہان شریک ہیں، جن میں فرانس کے صدر ایمانویل میکرون اور برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا شامل ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی سمٹ سے خطاب کریں گے جبکہ عالمی ٹیکنالوجی شخصیات جیسے سندر پچائی، کرسٹیانو امون، سیم آلٹ مین، بریڈ اسمتھ اور یان لی کون کی شرکت بھی متوقع ہے۔
سمٹ کے آغاز پر انتظامی مسائل بھی سامنے آئے، جن میں طویل قطاریں اور کچھ نمائش کنندگان کی اشیا کے گم ہونے کی شکایات شامل تھیں، تاہم منتظمین کے مطابق اشیا بعد میں برآمد کر لی گئیں۔


