اسلام آباد (ایم این این): پاکستان نے باجوڑ، خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد افغان طالبان حکومت کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں افغان سرزمین کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بدھ کے روز افغان ناظم الامور کو طلب کر کے یہ مراسلہ حوالے کیا گیا۔
بیان میں باجوڑ میں فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکیوں پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملے اور فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی۔ حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج پر عائد کی گئی، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ اس گروہ کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور وہ افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک کارروائیاں کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان کی جانب سے بارہا یقین دہانیاں کرائی گئیں، مگر تاحال کوئی ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدام سامنے نہیں آیا۔
پاکستان نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم تمام دہشت گرد تنظیموں اور ان کی قیادت کے خلاف فوری، عملی اور قابلِ توثیق اقدامات کریں۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ پاکستان کو اپنے شہریوں، فوجیوں اور سرحدی حدود کے تحفظ کے لیے جہاں بھی ضروری ہوا کارروائی کا حق حاصل ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے برلن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے اندر فضائی کارروائی سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو ماضی کے فیصلوں کا نتیجہ قرار دیا اور افغان طالبان پر پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کا الزام عائد کیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق پیر کو باجوڑ میں بارودی مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 11 اہلکار شہید ہوئے۔ جوابی کارروائی میں 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ دسمبر میں بھی شمالی وزیرستان میں فوجی کیمپ پر حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان کو اسی نوعیت کا احتجاجی مراسلہ جاری کیا تھا۔


