واشنگٹن (ایم این این):وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو غزہ میں فائر بندی کی خلاف ورزیوں کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ خطے میں دیرپا امن کے لیے انتہائی اہم ہے۔
وزیر اعظم نے یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی زیر قیادت عالمی امن بورڈ، بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں کہی۔
انہوں نے کہا، "فلسطینی عوام طویل عرصے سے غیر قانونی قبضے اور شدید مصائب کا شکار ہیں۔ دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ فائر بندی کی خلاف ورزیاں ختم ہوں تاکہ انسانی جانیں محفوظ رہیں اور تعمیر نو کے اقدامات آگے بڑھ سکیں۔”
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کو اپنے ملک اور مستقبل پر مکمل اختیار حاصل ہونا چاہیے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے فلسطینی خودمختاری کے لیے ایک قابلِ عمل راستے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایک آزاد، خودمختار اور مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے مسئلہ فلسطین کا حل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ کی "بصیرت اور متحرک قیادت” کے تحت فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعظم نے ٹرمپ سے مخاطب ہو کر کہا، "آج کا دن تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، آپ کی کوششوں اور مسلسل حمایت کے ذریعے غزہ میں دیرپا امن قائم ہوگا۔ یہ آپ کی میراث ہوگی۔”
ٹرمپ نے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی
اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کی قیادت کو سراہا۔
ٹرمپ نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران کئی طیارے مار گرائے گئے، لیکن ان کی مداخلت نے بڑے انسانی نقصانات کو روکا۔ انہوں نے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل منیر کو "مضبوط اور سنجیدہ رہنما” قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے تنازع کو چند دنوں میں حل کر کے شاندار کام کیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان-بھارت تعلقات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور نریندر مودی کو بھی "عظیم اور شاندار شخصیت” قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کیا۔
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ پہلے امریکا میں سیاسی امیدواروں کی حمایت کرتے رہے ہیں، تاہم اب وہ غیر ملکی رہنماؤں کو بھی سراہ رہے ہیں۔ انہوں نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران طیارے مار گرائے گئے اور صورتحال سنگین تھی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے رابطہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر کشیدگی ختم نہ کی گئی تو امریکا تجارتی معاہدوں پر نظرثانی کر سکتا ہے۔ ان کے بقول دونوں ممالک نے جلد کشیدگی کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور چند دنوں میں معاملہ طے پا گیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ بورڈ آف پیس ان کے دور کا ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر امن کو فروغ دینا اور تنازعات کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کے استحکام، مالی وعدوں کے حصول اور تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام پر غور کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں صلاحیت تو ہے مگر اس نے اپنی مکمل استعداد کے مطابق کام نہیں کیا۔
دریں اثنا وزیر اعظم شہباز شریف امریکی صدر کی دعوت پر واشنگٹن پہنچ گئے۔ ان کے ہمراہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔
وزیر اعظم آفس کے بیان کے مطابق پاکستان کی شمولیت عالمی امن کے فروغ میں اس کے فعال کردار اور سفارتی روابط میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ دورے کے دوران وزیر اعظم کی امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
پاکستان نے جنوری میں بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی اور عالمی اقتصادی فورم ڈیووس کے موقع پر بانی چارٹر پر دستخط کیے تھے۔ اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت مسلم اکثریتی ممالک کے رہنما بھی شریک ہیں، جہاں غزہ سے متعلق مشترکہ مؤقف اختیار کیے جانے کی توقع ہے۔


