اسلام آباد (ایم این این): سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی فارنزک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان سے برآمد ہونے والا مواد ممنوعہ منشیات نہیں تھا۔
یہ مقدمہ 28 نومبر 2024 کو مارگلہ تھانے میں درج کیا گیا تھا جس میں ان پر سرکاری رائفل چھیننے، پولیس ناکے پر گاڑی چڑھانے اور منشیات رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں نومبر 2024 میں پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران مبینہ ہلاکتوں کی رپورٹنگ پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس راجہ انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ پولیس کی جانب سے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تیار کردہ لیبارٹری رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر برآمد شدہ مواد میں میتھ ایمفیٹامین یعنی آئس شامل نہیں تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ممنوعہ منشیات کی عدم موجودگی میں منشیات سے متعلق دفعات کیسے برقرار رہ سکتی ہیں، اور معاملہ مزید کارروائی کے لیے ٹرائل کورٹ کو واپس بھجوا دیا۔
عدالت میں وکلا، سیاسی کارکنان اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے موجود تھے۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس ایسے چلایا گیا جیسے مطیع اللہ جان کوئی منشیات فروش ہوں۔
گزشتہ روز انسداد دہشت گردی عدالت نے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کے لیے 19 فروری کی تاریخ مقرر کی تھی۔
سماعت کے بعد سوشل میڈیا پر بیان میں مطیع اللہ جان نے کہا کہ ان پر منشیات اسمگلنگ کا الزام غلط ثابت ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے لیبارٹری رپورٹ کی روشنی میں ریاست کو ضمنی چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے اپنے وکلا ایمان مزاری، ہادی، بیرسٹر عبدالقادر اور دیگر کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے گرفتاری سے لے کر ہائی کورٹ تک ان کا ساتھ دیا۔
یہ معاملہ 28 نومبر 2024 کو اس وقت شروع ہوا جب ان کے بیٹے نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ انہیں اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی پارکنگ سے نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے۔ بعد ازاں حکام نے بتایا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ای نائن کے مقام پر گاڑی روکے جانے پر ان سے 246 گرام آئس برآمد ہوئی۔
ابتدائی طور پر انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تاہم بعد میں ہائی کورٹ نے انہیں جوڈیشل کسٹڈی میں بھیج دیا۔ 30 نومبر 2024 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں ضمانت دے دی جس کے بعد وہ اڈیالہ جیل سے رہا ہو گئے۔
ایف آئی آر میں کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 1997، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات شامل کی گئی تھیں۔


