اسلام آباد (ایم این این): فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور محصولات کی وصولی بہتر بنانے کے لیے چودہ سے زائد کاروباری شعبوں کو لازمی طور پر پوائنٹ آف سیل نظام نصب کر کے اسے اپنے حقیقی وقت کے آن لائن مانیٹرنگ نظام سے منسلک کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
نئی ہدایات کے تحت ہوٹلوں، ریستورانوں، اسپتالوں، شادی ہالوں، فٹنس مراکز، سوئمنگ پولز، بیوٹی سیلونز، کوریئر کمپنیوں اور اکاؤنٹنسی فرمز سمیت مختلف خدمات فراہم کرنے والے شعبوں کو اپنی فروخت اور سروسز کے تمام لین دین کو ڈیجیٹل طور پر ایف بی آر کے مرکزی نظام سے جوڑنا ہوگا۔ اس اقدام کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ براہ راست ٹیکس ادارے تک پہنچایا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینا، آمدن چھپانے کے رجحان کی روک تھام کرنا اور ٹیکس نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے منسلک ہونے کے بعد فروخت اور ٹیکس ادائیگیوں کی فوری نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
تاہم محدود پیمانے پر کام کرنے والے بعض چھوٹے کاروباروں کو مخصوص شرائط کے تحت استثنیٰ دیا گیا ہے۔ ان میں مخصوص معیار پر پورا اترنے والے ایئر کنڈیشنڈ آؤٹ لیٹس، وہ اسپتال جہاں فی مریض فیس پانچ سو روپے سے کم ہو، اور وہ تعلیمی ادارے جہاں ماہانہ فیس ایک ہزار روپے سے کم ہو شامل ہیں۔
سروس فراہم کرنے والوں کے علاوہ ریٹیلرز، مینوفیکچررز، درآمد کنندگان، کرنسی ایکسچینج کمپنیاں اور ووکیشنل ٹریننگ ادارے بھی ایف بی آر کے ڈیجیٹل ٹیکس فریم ورک سے منسلک ہونے کے پابند ہوں گے۔
یہ اقدام محصولات میں شفافیت بڑھانے، ریونیو میں کمی کے راستے بند کرنے اور تجارتی سرگرمیوں کو سخت الیکٹرانک نگرانی میں لانے کی وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت بڑے شہری مراکز میں اس پر سختی سے عملدرآمد متوقع ہے، خصوصاً کلبوں، جمز اور کثیر المقاصد تجارتی مراکز کے لیے۔


