پرنس اینڈریو کے سابق گھر کی دوسرے روز بھی تلاشی، سرکاری عہدے میں بدعنوانی کی تحقیقات جاری

0
1

لندن (ایم این این): برطانوی پولیس نے پرنس اینڈریو کے سابق رہائشی مقام کی دوسرے روز بھی تلاشی جاری رکھی، جبکہ انہیں سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال کے شبے میں پوچھ گچھ کے بعد تحقیقات کے تحت چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ ان کی بدنام امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے دوستی سے منسلک ہے۔

پولیس کی کارروائی ونڈسر اسٹیٹ میں واقع تیس کمروں پر مشتمل رائل لاج رہائش گاہ پر جاری ہے، جہاں پرنس اینڈریو ماضی میں مقیم رہے۔ چھیاسٹھ سالہ شاہی شخصیت کو گیارہ گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ حکام ان الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ انہوں نے خفیہ سرکاری دستاویزات جیفری ایپسٹین کو فراہم کیں۔

پولیس نے نورفولک میں واقع سینڈرنگھم اسٹیٹ کے وُڈ فارم میں بھی تلاشی لی، جہاں وہ اس وقت قیام پذیر ہیں۔ جمعہ کی صبح ونڈسر میں بغیر نشان والی گاڑیاں اسٹیٹ میں داخل ہوتی دیکھی گئیں۔

تھیمز ویلی پولیس کے مطابق پرنس اینڈریو پر تاحال فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور تحقیقات جاری ہیں۔ اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل اولیور رائٹ نے بتایا کہ سرکاری عہدے میں بدعنوانی کے الزام پر مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس جرم کی صورت میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو سکتی ہے اور مقدمہ کراؤن کورٹ میں چلایا جاتا ہے۔

برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے ایک غیر معمولی ذاتی دستخط شدہ بیان میں کہا کہ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جائے گا، اور معمولات زندگی برقرار رکھنے کا پیغام دیا۔

پرنس اینڈریو ماضی میں جیفری ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غلط اقدام کی تردید کرتے رہے ہیں۔ تاہم امریکا میں جاری کردہ دستاویزات سے ظاہر ہوا کہ دونوں کے تعلقات دو ہزار آٹھ میں ایپسٹین کی کم عمر لڑکی سے جسم فروشی کے جرم میں سزا کے بعد بھی برقرار رہے۔ دستاویزات کے مطابق بطور خصوصی نمائندہ برائے تجارت و سرمایہ کاری انہوں نے افغانستان، ویتنام، سنگاپور اور دیگر ممالک سے متعلق سرکاری رپورٹس شیئر کیں۔

دو ہزار بائیس میں پرنس اینڈریو نے امریکا میں ورجینیا جیوفرے کی جانب سے دائر دیوانی مقدمہ عدالت سے باہر طے کیا تھا، جنہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ کم عمری میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔

دیگر برطانوی پولیس ادارے بھی ایپسٹین کے برطانیہ سے روابط کی علیحدہ تحقیقات کر رہے ہیں، جن میں ہوائی اڈوں کے فلائٹ ریکارڈز کا جائزہ شامل ہے۔ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ مل کر یہ جانچ رہی ہے کہ آیا ہیتھرو سمیت دارالحکومت کے ہوائی اڈے انسانی اسمگلنگ یا جنسی استحصال کے لیے استعمال ہوئے۔

پولیس نے پرنس اینڈریو کی سکیورٹی پر مامور موجودہ اور سابق اہلکاروں سے بھی کہا ہے کہ وہ کسی ممکنہ متعلقہ معلومات پر غور کریں۔ تاحال دارالحکومت کی حدود میں کسی نئے جنسی جرم کا الزام سامنے نہیں آیا۔

شاہی خاندان کے ایک سینئر رکن کی گرفتاری جدید دور میں غیر معمولی واقعہ قرار دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل برطانیہ میں کسی شاہی شخصیت کی گرفتاری سن سترہویں صدی میں بادشاہ چارلس اول کی تھی، جنہیں غداری کے جرم میں سزا سنائے جانے کے بعد سن سولہ سو انچاس میں سزائے موت دی گئی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں