نیوز ڈیسک (ایم این این): عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعرات کو جنیوا میں منعقد ہوگا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ جاری ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بدر البوسعیدی نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مثبت پیش رفت کرنا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے، جس سے ایران کے ساتھ ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ تہران اپنے جوہری پروگرام کی مکمل نگرانی کے نظام پر آمادہ ہے تاکہ اس کی پرامن نوعیت کی ضمانت دی جا سکے اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی ایرانی قوم کے وقار اور خودداری کا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے یہ ٹیکنالوجی اپنے سائنسدانوں کی محنت سے تیار کی اور اس کے لیے بھاری قیمت ادا کی، جس میں دو دہائیوں پر محیط امریکی پابندیاں، ایرانی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور جون میں جوہری تنصیبات پر حملے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا کیونکہ یہ پروگرام اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں پرامن مقاصد کے لیے جاری ہے۔
ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن ہے اور اس معاہدے کے تحت وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، تاہم اسے پرامن جوہری توانائی اور افزودگی کا حق حاصل ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران اس ادارے کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام اس سے قبل ایران کے لیے صفر افزودگی کی شرط کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا تھا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادیوں کی حمایت کا معاملہ شامل ہونا چاہیے۔
تاہم عباس عراقچی نے واضح کیا کہ موجودہ مذاکرات صرف جوہری مسئلے تک محدود ہیں اور کسی دوسرے موضوع پر بات نہیں ہو رہی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو دونوں فریقوں کے خدشات اور مفادات کو مدنظر رکھے۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ معاہدہ سن دو ہزار پندرہ میں طے پانے والے مشترکہ جامع منصوبہ عمل سے بھی بہتر ہو سکتا ہے، جو سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں طے پایا تھا۔ ان کے مطابق نئے معاہدے کے تحت ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ پرامن رہے گا اور مزید پابندیاں بھی اٹھائی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب بعض مبصرین اس پیش رفت کے بارے میں محتاط ہیں۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر تریتا پارسی نے کہا کہ ایران ممکنہ طور پر ایک وسیع تجویز پیش کرے گا، لیکن اگر امریکا نے غیر حقیقت پسندانہ توقعات قائم رکھیں تو معاہدہ مشکل ہو سکتا ہے۔


