دوحہ: پاکستان اور قطر نے منگل کے روز خطے کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بالخصوص ایران اور افغانستان کے حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ممکنہ تنازعات سے بچنے کے لیے مکالمے اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بات چیت وزیر اعظم شہباز شریف کے سرکاری دورہ قطر کے دوران ہوئی جہاں ان کی ملاقات قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن بن علی الثانی سے ہوئی۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ملاقات پاکستان اور قطر کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کی عکاس ہے۔
ملاقات میں دفاعی اور سکیورٹی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور تاریخی تعلقات کی توثیق کی گئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دفاعی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
قطری نائب وزیر اعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے دفاعی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
دریں اثنا وزیر اعظم کی ملاقات قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید سے بھی ہوئی جو پاک قطر مشترکہ کاروباری ٹاسک فورس کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے اور پاکستان کی برآمدات کو متنوع بنانے کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً زرعی اجناس، غذائی اشیا اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے شعبوں میں۔
دونوں فریقوں نے دوطرفہ تجارت اور معاشی تعاون کا جائزہ لیا اور پاکستان قطر تعلقات میں بڑھتی ہوئی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاک قطر مشترکہ وزارتی کمیشن کے چھٹے اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
وزیر اعظم نے سرمایہ کاری کے لیے سازگار اصلاحات کو اجاگر کرتے ہوئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے کردار کا ذکر کیا جو غیر ملکی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔
قطری وزیر نے معاشی تعاون کو وسعت دینے اور نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط بنانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ دونوں جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ ماہ رمضان کے دوران پاک قطر مشترکہ کاروباری ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ قطر کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی ٹھوس تجاویز پر غور کیا جا سکے۔
ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔
علاوہ ازیں قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ فیصل بن قاسم الثانی کی قیادت میں ایک وفد نے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے پاکستان اور قطر کے درمیان معاشی اور تجارتی روابط مضبوط بنانے میں ایسوسی ایشن کے تعمیری کردار کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان دوطرفہ شراکت داری میں نجی شعبے کے کردار کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
وزیر اعظم نے قطری کاروباری رہنماؤں کو پاکستان میں بنیادی ڈھانچے، رسد، توانائی، زراعت، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور کاروباری روابط مضبوط بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ رواں ماہ دوحہ میں متوقع پاک قطر سرمایہ کاری ٹاسک فورس کے دورے اور کاروباری فورمز کے ذریعے قریبی رابطے برقرار رکھے جائیں گے تاکہ مذاکرات کو عملی معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بھی متوقع ہے جس میں سیاسی روابط، معاشی تعاون، توانائی شراکت داری اور عوامی سطح پر تبادلوں سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات چیت ہوگی۔ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور افرادی قوت کی برآمد کے شعبوں میں نئے امکانات کا جائزہ لیں گے۔
وزیر اعظم گزشتہ رات حمد انٹرنیشنل ہوائی اڈے پہنچے تو قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ محمد بن عبدالعزیز الخلیفی، پاکستان کے سفیر برائے قطر محمد عامر اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم کے ہمراہ اسحاق ڈار، عطا اللہ تارڑ اور طارق فاطمی بھی سرکاری وفد میں شامل ہیں۔


