امریکہ کی ایران پر نئی پابندیاں، تیل کی فروخت اور اسلحہ پروگرام نشانہ

0
1

واشنگٹن (ایم این این) – امریکا کے محکمہ خزانہ نے ایران کی غیر قانونی تیل فروخت، بیلسٹک میزائل اور اسلحہ سازی کے پروگراموں میں مبینہ معاونت پر تیس سے زائد افراد، اداروں اور نام نہاد شیڈو فلیٹ جہازوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا کہ ان نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو ایرانی پاسداران انقلاب اور وزارت دفاع و لاجسٹکس برائے مسلح افواج کو بیلسٹک میزائل اور دیگر ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار خام مال اور مشینری کی فراہمی میں مدد دیتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانے کی مہم تیز کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق دیرینہ تنازع کے حل کے لیے معاہدہ نہ کیا تو فوجی کارروائی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب میں بھی ممکنہ حملے کا عندیہ دیا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں صرف شہری توانائی کے مقاصد کے لیے ہیں۔ تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس بات پر شدید اختلافات موجود ہیں کہ کون سی پابندیاں کب اور کس مرحلے پر ختم کی جائیں۔

نئی پابندیوں پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

محکمہ خزانہ کے مطابق بارہ شیڈو فلیٹ جہازوں اور ان کے مالکان یا آپریٹرز کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے کروڑوں ڈالر مالیت کے ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل کی۔

شیڈو فلیٹ سے مراد وہ جہاز ہیں جو پابندیوں کے باوجود تیل کی نقل و حمل کرتے ہیں۔ یہ عموماً پرانے جہاز ہوتے ہیں، ان کی ملکیت غیر واضح ہوتی ہے اور ان کے پاس بین الاقوامی معیار کے مطابق اعلیٰ درجے کی انشورنس کوریج موجود نہیں ہوتی۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان میں کہا کہ ایران عالمی مالیاتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی تیل فروخت کرتا ہے، اس کی آمدن کو جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے پروگراموں میں لگاتا ہے اور اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں