باجوڑ (ایم این این): خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں بدھ کی شام نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے چار پولیس اہلکار شہید جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے۔
تھانہ خار کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر گل زادہ کے مطابق حملہ آوروں نے نوائی کلے کے قریب افطار کے وقت ابابیل اسکواڈ کو نشانہ بنایا جو ایک خصوصی گشتی فورس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکواڈ معمول کی گشت پر تھا کہ اچانک فائرنگ کر دی گئی جس کے نتیجے میں چار اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ دو اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔
باجوڑ پولیس کے ترجمان اسرار خان نے بتایا کہ اہلکار اپنی ڈیوٹی مکمل ہونے پر عنایت کلے بازار سے باجوڑ پولیس لائنز کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں ان پر حملہ کیا گیا۔ شہید ہونے والوں میں یار زادہ، داوود خان، عمران خان اور سراج خان شامل ہیں جبکہ ارشاد خان اور عزیز الرحمن زخمی ہوئے۔
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر خار کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
واقعے کے فوراً بعد سینئر پولیس افسران کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور فرار ہونے والے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل خیبر پختونخوا میں دو مختلف حملوں میں سات پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے اور حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
منگل کے روز ضلع کوہاٹ میں پولیس موبائل پر دہشت گرد حملے کے نتیجے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اسد محمود سمیت چھ اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ یہ حملہ شکاردہ روڈ کے قریب اس وقت کیا گیا جب پولیس ٹیم دو افراد کو عدالت میں پیشی کے لیے لے جا رہی تھی۔ ایک زیر حراست شخص بھی حملے میں جان کی بازی ہار گیا جبکہ حملہ آوروں نے گاڑی کو آگ لگا دی۔
اسی طرح لور ساؤتھ وزیرستان کی وانا تحصیل کے گاؤں مغل خیل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک کانسٹیبل شہید ہو گیا۔
پیر کے روز ضلع کرک میں ریسکیو ٹیموں پر دہشت گرد حملے کے دوران فیڈرل کانسٹیبلری کے تین اہلکار شہید ہوئے تھے جبکہ گزشتہ ہفتے باجوڑ میں بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے چیک پوسٹ پر حملے میں گیارہ سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے۔


