دی ہنڈرڈ ڈرافٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی ممکنہ نظراندازی پر تنازع، ای سی بی کی وضاحت

0
1

اسپورٹس ڈیسک (ایم این این) – برطانیہ کی فرنچائز کرکٹ لیگ دی ہنڈرڈ میں پاکستانی کھلاڑیوں کے انتخاب سے متعلق خبروں پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چند ٹیمیں، جن میں بھارتی کاروباری اداروں کی جزوی ملکیت ہے، آئندہ ڈرافٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو زیر غور نہیں لائیں گی۔

دی ہنڈرڈ کی آٹھ میں سے چار ٹیمیں ایسے کاروباری گروپس کی ملکیت میں جزوی طور پر شامل ہیں جو انڈین پریمیئر لیگ کی فرنچائزز بھی رکھتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مارچ میں ہونے والی نیلامی کے دوران ان چار ٹیموں کی جانب سے پاکستانی کرکٹرز کو شارٹ لسٹ نہیں کیا جائے گا۔

ان خبروں کے بعد کرکٹ حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا اور موجودہ و سابق کھلاڑیوں نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا کہ انتخابی عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جائے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک اسپورٹس ایجنٹ کو ای سی بی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس کی فہرست میں شامل پاکستانی کھلاڑیوں پر آئی پی ایل سے منسلک ٹیمیں غور نہیں کریں گی، جبکہ ایک اور ایجنٹ نے اسے ٹی ٹوئنٹی لیگز میں بھارتی سرمایہ کاری کے تحت ایک “غیر تحریری اصول” قرار دیا۔

ای سی بی نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ دی ہنڈرڈ ایک جامع اور سب کے لیے کھلی لیگ ہے، اور تمام آٹھ ٹیموں نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ انتخاب صرف کارکردگی، دستیابی اور ٹیم کی ضروریات کی بنیاد پر ہوگا۔ بورڈ نے واضح کیا کہ کسی بھی کھلاڑی کو اس کی قومیت کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جا سکتا اور امتیازی سلوک کے خلاف سخت ضوابط موجود ہیں۔

پاکستانی بلے باز صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ انتخاب فرنچائزز کا اختیار ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ انہیں منتخب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑی جہاں بھی موقع ملے کھیلنے کے لیے تیار ہیں اور دی ہنڈرڈ دنیا کی بہترین لیگز میں سے ایک ہے۔

اگلے ماہ ہونے والی نیلامی کے لیے سڑسٹھ پاکستانی کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف، صاحبزادہ فرحان، شاداب خان اور صائم ایوب شامل ہیں۔

خواتین کی کیٹیگری میں قومی کپتان فاطمہ ثنا، ٹوئنٹی رینکنگ کی نمایاں بولر سعدیہ اقبال، آل راؤنڈر ڈیانا بیگ اور وکٹ کیپر بلے باز منیبہ علی نے بھی ڈرافٹ کے لیے نام درج کرایا ہے۔

گزشتہ سیزن میں دو پاکستانی کھلاڑی محمد عامر اور عماد وسیم نے شرکت کی تھی جبکہ اس سے قبل بھی کئی پاکستانی کرکٹرز اس لیگ میں کھیل چکے ہیں۔

اگرچہ ای سی بی اس لیگ کا مکمل مالک اور نگران ادارہ ہے، تاہم گزشتہ سال اس نے انگلینڈ کے ڈومیسٹک کرکٹ نظام کو مالی استحکام دینے کے لیے بھارتی اور امریکی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کیے تھے۔ بعض ٹیمیں ایسی ہیں جن کی جزوی ملکیت بھارتی کاروباری اداروں کے پاس ہے جو آئی پی ایل کی فرنچائزز بھی چلاتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں