نیوز ڈیسک (ایم این این): بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے دو روزہ دورے کے اختتام پر اعلان کیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے اور آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔
یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور جدید اختراعات کے شعبوں میں اشتراک کو وسعت دیں گے۔ دورے کے دوران معاشی، سلامتی اور سفارتی شعبوں میں ایک درجن سے زائد دو طرفہ معاہدوں پر اتفاق کیا گیا۔
بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ دونوں ملک قدیم تہذیبوں کے حامل ہیں اور جدت کے ذریعے مستقبل کو سنوارنے کے عزم پر قائم ہیں۔ مشترکہ اعلامیے میں ٹیکنالوجی، معیشت اور سماج سے متعلق ابھرتے ہوئے عالمی رجحانات کی نشاندہی کے لیے اعداد و شمار پر مبنی تجزیے کے تحت تعاون پر بھی زور دیا گیا۔
اسرائیل نے مزید پچاس ہزار بھارتی شہریوں کو روزگار کے لیے ملک میں داخلے کی اجازت دینے پر بھی اتفاق کیا، جہاں ہزاروں جنوبی ایشیائی کارکن پہلے ہی تعمیرات اور دیکھ بھال کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، خاص طور پر غزہ جنگ کے آغاز کے بعد فلسطینی مزدوروں پر پابندیوں کے تناظر میں۔
نریندر مودی کا یہ دورہ، جو سن دو ہزار چودہ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کا دوسرا دورہ ہے، بھارت میں تنقید کا باعث بھی بنا ہے کیونکہ غزہ میں جاری جنگ میں بہتر ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ مشترکہ بیان میں سات اکتوبر دو ہزار تیئیس کو اسرائیل پر حماس کے حملے اور اپریل دو ہزار پچیس میں پہلگام، مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں اور شہریوں پر حملے کا بھی حوالہ دیا گیا۔
نریندر مودی نے کہا کہ دہشت گردی کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں اور دونوں ممالک اس کے خلاف کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کو تنازعات کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور بھارت خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے۔
رواں ماہ بھارت ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات پر تنقید کی۔ اس کے ساتھ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو بھی سراہا۔
بھارت اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات نئی دہلی میں شروع ہو چکے ہیں اور بھارتی حکومت کے مطابق دو ہزار چوبیس تا دو ہزار پچیس کے دوران دو طرفہ تجارتی حجم تین اعشاریہ باسٹھ ارب ڈالر رہا۔
دورے کے دوران نریندر مودی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے بھی ملاقات کی اور مذاکرات کو مفید اور ہمہ گیر قرار دیا، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مزید معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے تاکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔


