اسلام آباد (ایم این این); تحریک تحفظ آئین پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت کے معاملے میں کسی بھی مجرمانہ غفلت سے ملک کا سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
اتحاد کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب گاہ پر جاری بیان کے مطابق یہ تشویش تحریک تحفظ آئین پاکستان کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس اور اسلام آباد میں مصطفیٰ نواز کھوکھر کی رہائش گاہ پر منعقدہ افطار تقریب کے دوران ظاہر کی گئی۔
اجلاس میں قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی، قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، سیکریٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حسن اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو فوری طور پر شفاہ انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے اور وکلا و اہل خانہ سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں فوری ختم کی جائیں۔
اتحاد نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیر اعظم کو ناحق قید رکھا گیا ہے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔
بیان میں حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ عمران خان کی صحت اور طبی معائنوں سے متعلق معلومات خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ طبی رپورٹس اہل خانہ سے پوشیدہ رکھنے سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے خبردار کیا کہ سابق وزیر اعظم کی صحت سے متعلق کسی بھی مجرمانہ غفلت کے سنگین سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
بیان میں صاحبزادہ حامد رضا سمیت دیگر سیاسی قیدیوں بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چودھری، علی وزیر اور مہرنگ بلوچ کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اتحاد نے ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، افغانستان سے کشیدہ تعلقات، خطے میں جنگ کے خدشات، معاشی ابتری اور بڑھتی ہوئی بدامنی پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔
بیان میں کہا گیا کہ حالیہ ہفتوں میں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سیاسی قیادت اور عوام کی مشاورت سے جامع قومی حکمت عملی مرتب کی جائے۔
پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ محاذ آرائی سے گریز کریں اور دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کریں۔ ساتھ ہی سعودی عرب اور ترکیہ جیسے دوست ممالک سے رابطے بڑھانے کی بھی ضرورت پر زور دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق غربت کی شرح انتیس فیصد تک پہنچ چکی ہے اور بے روزگاری اکیس برس کی بلند ترین سطح پر ہے، جبکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی ہے اور کئی بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان سے نکل چکی ہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ مہینوں میں ماہرین کی معاونت سے متبادل بجٹ اور معاشی تجاویز پیش کرے گی۔
بیان میں ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی خبروں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ ایسا کوئی اقدام خطے کے لیے تباہ کن ہوگا۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے کشیدگی کو روکنے کی کوشش کرے۔
اتحاد نے کہا کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
آخر میں موجودہ حکومت کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر ایک غیر نمائندہ فورم قائم کرنے کی کوشش ہے اور فلسطینیوں کو اس میں شامل نہ کرنا اس کے منفی مقاصد کو ظاہر کرتا ہے، لہٰذا پاکستان کو اس کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔


