آپریشن غضب للحق جاری، دو سو ستانوے افغان طالبان ہلاک ہونے کا دعویٰ

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – وزیر اعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی ذرائع ابلاغ مشرف زیدی نے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے تازہ صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کارروائیاں دن بھر جاری رہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ دو سو ستانوے افغان طالبان ہلاک جبکہ چار سو پچاس سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ان کے مطابق نواسی افغان طالبان چوکیوں کو تباہ اور اٹھارہ پر قبضہ کیا گیا، جبکہ ایک سو پینتیس ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے انتیس مقامات کو فضائی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی کارروائیاں فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رہیں اور کابل کے گرین زون کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی فوجی تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں اور صورتحال بدستور جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان نے خیبر اور چترال میں جھڑپوں اور فائرنگ کی کوشش کی لیکن ان کے پاس روایتی جنگ کی صلاحیت موجود نہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ روز کے مقابلے میں افغان طالبان کے لہجے میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔

عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کا کردار واضح تھا اور اس کے شواہد موجود تھے۔ انہوں نے اسلام آباد اور بنوں کے دہشت گرد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام واقعات افغانستان سے جڑے ہوئے تھے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

کارروائی کے دوران آریانا فوجی کمپلیکس، دبگئی چیک پوسٹ، ایک پولیس ہیڈکوارٹر اور ذاکر خیل پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید حملوں کے باعث افغان طالبان اہلکاروں کو کئی مقامات چھوڑنا پڑے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج نے جھڑپوں کے دوران افغان فوجی گاڑی بھی قبضے میں لے لی۔

سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ مہمند سیکٹر کے قریب ایک اور افغان چوکی کو بھی تباہ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق اور صرف افغان فوجی اہداف تک محدود ہیں۔

اس سے قبل افغانستان کے صوبہ لغمان میں بھی پاکستان فضائیہ نے کارروائی کرتے ہوئے اسلحہ ڈپو اور افغان بارڈر فورس کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے، اور پاکستان کی مسلح افواج ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں