نیوز ڈیسک (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران میں “بڑی جنگی کارروائیاں” شروع کر دی ہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی میزائل حملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے 24 صوبوں میں کم از کم 201 افراد جاں بحق اور 747 زخمی ہو چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 220 سے زائد امدادی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ جنوبی ایران میں ایک اسکول پر حملے میں بھی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔
جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، جن میں قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، اردن، سعودی عرب اور عراق شامل ہیں۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کی تصدیق وزارتِ داخلہ نے کی ہے۔ سول ڈیفنس کے اہلکار آگ بجھانے اور ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
فضائی حدود بند، عوامی تقریبات معطل
کشیدہ صورتحال کے پیش نظر خطے کے متعدد ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
کویت کی وزارتِ اوقاف نے سیکیورٹی خدشات کے باعث تمام مساجد میں تراویح کی نمازیں اگلے حکم تک معطل کر دی ہیں۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد حکومت نے تمام عوامی تقریبات، اجتماعات اور ہوٹلوں و سیاحتی مقامات پر تفریحی سرگرمیاں معطل کر دیں۔ رمضان کے دوران منعقد کیے جانے والے افطار اور رمضان ٹینٹس بھی فی الحال روک دیے گئے ہیں۔
خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور عالمی برادری حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔


