امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں فضائی آپریشن معطل

0
1

نیوز ڈیسک (ایم این این) – امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہو گیا جس کے نتیجے میں عالمی فضائی کمپنیوں نے ہفتے کے روز متعدد پروازیں معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کر دیں۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والے نقشوں کے مطابق ایران کی فضائی حدود تقریباً خالی دکھائی دیں، جبکہ اسرائیل نے ایران پر حملوں کی تصدیق کی اور امریکی فوج نے بھی مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایران نے جوابی کارروائی میں میزائل داغے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

ان واقعات کے بعد تہران کے جوہری تنازعے پر سفارتی حل کی امیدیں معدوم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ خطے میں گزشتہ چند ہفتوں سے جاری امریکی فوجی سرگرمیوں کے بعد کشیدگی ایک بار پھر بھڑک اٹھی ہے۔

روس اور یوکرین کی فضائی حدود طویل عرصے سے بند ہونے کے باعث یورپ اور ایشیا کے درمیان پروازوں کے لیے مشرق وسطیٰ کی اہمیت بڑھ گئی تھی، تاہم موجودہ صورتحال نے فضائی آپریشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق تنازع والے علاقوں میں پروازیں جاری رکھنا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ مسافر طیاروں کو حادثاتی یا جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ متبادل طویل راستوں کے باعث ایندھن کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی معطلی

حملوں کے بعد اسرائیل، ایران، عراق اور اردن نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔ پروازوں کے نقشوں پر طیاروں کو ان علاقوں سے گریز کرتے دیکھا گیا۔

اطلاعات کے مطابق قطر ایئرویز کی بعض پروازیں ہفتے کی صبح روانہ ہوئیں مگر بعد ازاں کویت یا سعودی عرب کی فضائی حدود میں چکر لگا کر دوحہ کی جانب واپس لوٹ گئیں۔

روس کی وزارت ٹرانسپورٹ نے اعلان کیا کہ روسی فضائی کمپنیوں نے ایران اور اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔

جرمنی کی فضائی کمپنی لفتھانزا نے دبئی کے لیے ہفتہ اور اتوار کی پروازیں منسوخ کرنے اور تل ابیب، بیروت اور عمان کے لیے سروس سات مارچ تک عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا۔

ایئر فرانس نے تل ابیب اور بیروت کی پروازیں منسوخ کر دیں، جبکہ آئبیریا نے بھی تل ابیب کے لیے پروازیں روک دیں۔ وز ایئر نے اسرائیل، دبئی، ابوظہبی اور عمان کے لیے اپنی پروازیں فوری طور پر معطل کر دیں۔

کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایران کے لیے تمام پروازیں اگلے حکم تک بند کر دیں، جبکہ عمان ایئر نے بغداد کے لیے پروازیں روکنے کا اعلان کیا۔

متحدہ عرب امارات نے احتیاطی تدابیر کے طور پر جزوی اور عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کیں۔ فلائی دبئی کے ترجمان کے مطابق اٹھائیس فروری کو بعض فضائی حدود کی بندش کے باعث کئی پروازیں متاثر ہوئیں۔

کے ایل ایم نے ایمسٹرڈیم سے تل ابیب کی پرواز کی معطلی کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ تاریخ سے قبل نافذ کرتے ہوئے ہفتے کی پرواز منسوخ کر دی۔

ورجن اٹلانٹک نے عراقی فضائی حدود سے عارضی گریز کا اعلان کیا جس کے باعث بعض پروازوں کے راستے تبدیل کیے گئے۔

قطر ایئرویز نے بھی احتیاطی اقدام کے طور پر عارضی طور پر فضائی آپریشن میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں