نیوز ڈیسک (ایم این این) – امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر مشترکہ اور مبینہ طور پر پیشگی حملے شروع کر دیے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے “بڑی جنگی کارروائیوں” کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے “آپریشن ایپک فیوری” نامی اس کارروائی کے پہلے مرحلے میں ایرانی قیادت اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان بھی اہداف میں شامل تھے، تاہم نتائج واضح نہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان محفوظ ہیں جبکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ ان کے علم کے مطابق رہبرِ اعلیٰ زندہ ہیں۔
ایران کا جوابی حملہ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز کی پہلی لہر داغ دی گئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے میں موجود تمام امریکی اڈے اور مفادات ان کی دسترس میں ہیں۔
تہران سمیت مختلف ایرانی شہروں میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ متحدہ عرب امارات کے شہروں ابوظہبی اور دبئی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ بحرین نے امریکی پانچویں بحری بیڑے کے مرکز پر میزائل حملے کی تصدیق کی۔ قطر نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی جانب آنے والے تمام میزائل مار گرائے ہیں۔
ایران، اسرائیل اور عراق نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جبکہ قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک نے بھی شہری پروازیں معطل کر دی ہیں۔
اسکول پر حملے کی اطلاعات
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صوبہ ہرمزگان میں ایک بچیوں کے اسکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم ستاون طالبات جاں بحق اور ساٹھ زخمی ہوئیں۔ مناب کے گورنر محمد راد مہر نے کہا کہ تریپن طالبات ملبے تلے دبی ہوئی ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس خبر کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
سفارتی کوششیں متاثر
حالیہ کشیدگی کے بعد ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری تنازعے کے سفارتی حل کی امیدیں مزید معدوم ہو گئی ہیں۔ حالیہ مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد امریکہ کو درپیش خطرات کا خاتمہ اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے انیس سو اناسی کے یرغمال بحران کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے حکمرانوں کے خلاف کھڑے ہوں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ یہ مشترکہ کارروائی ایرانی عوام کو اپنا مستقبل خود طے کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
عوام میں خوف و ہراس
ایران کے مختلف شہروں میں شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پیٹرول پمپوں اور بینکوں کے باہر طویل قطاریں لگ گئیں جبکہ کئی خاندان محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے لگے۔ تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
ایران کی اعلیٰ سکیورٹی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ مزید حملوں کا امکان ہے اور شہریوں کو محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کشیدگی وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔


