نیوز ڈیسک (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتہ کے روز سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے ایران پر اسرائیلی حملے اور بعد ازاں خلیجی ممالک پر ہونے والی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ تنازع مزید نہ پھیلے۔
وزیراعظم نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برادر خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس نازک وقت میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ماہِ رمضان کی برکتیں خطے میں جلد امن و سکون کا باعث بنیں گی۔
دفتر خارجہ کا بیان
دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں مذاکرات کی ناکامی اور کشیدگی کے آغاز پر افسوس کا اظہار کیا۔ بیان میں ایران پر حملوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایسے اقدامات پورے خطے کے امن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ساتھ ہی ایران کی جانب سے سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کی بھی سخت مذمت کی گئی اور انہیں خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
دفتر خارجہ نے ابوظہبی میں میزائل حملے کے دوران ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور تمام فریقین سے مزید کشیدگی سے گریز کی اپیل کی۔
اسحاق ڈار کے سفارتی رابطے
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے۔
اسحاق ڈار نے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری سفارتی حل پر زور دیا، جبکہ دیگر رہنماؤں کے ساتھ خطے کی صورتحال پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا گیا۔
پی آئی اے کی پروازیں معطل
قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات، بحرین، دوحہ اور کویت کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کر دیں۔ سعودی عرب کے لیے پروازیں جاری رہیں گی تاہم متبادل اور طویل راستوں سے چلائی جائیں گی۔
سفری ہدایات
دفتر خارجہ نے پاکستانی شہریوں کو غیر ضروری طور پر ایران کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایران میں مقیم پاکستانیوں کو محتاط رہنے، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور پاکستانی سفارتخانوں سے رابطے میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔


