امریکا کا مذاکرات کا عندیہ- ایران تنازع مزید شدت اختیار کر گیا

0
1

نیوز ڈیسک (ایم این این): وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ایران میں ابھرنے والی نئی قیادت نے امریکا سے مذاکرات پر آمادگی کا عندیہ دیا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور درجنوں اعلیٰ حکام ہلاک ہو چکے ہیں۔

عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بالآخر بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں، تاہم اس وقت فوجی کارروائیاں بغیر تعطل جاری ہیں۔ ممکنہ ایرانی رہنماؤں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

بحرین میں آگ اور علاقائی صورتحال

بحرین کی سلمان بندرگاہ، جہاں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا تعینات ہے، پر ایرانی حملے کے بعد شدید آگ کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ ایرانی اور روسی میڈیا نے سیکڑوں امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، تاہم امریکی سینٹرل کمان کے ترجمان نے کہا کہ کوئی امریکی جہاز نشانہ نہیں بنا۔

شام کے علاقے عین ترما میں ایرانی میزائل کے ملبے سے چار افراد زخمی ہوئے جن میں ایک شخص اور اس کی تین بیٹیاں شامل ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق تمام زخمیوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔

عراق میں احتجاج اور خلیجی ردعمل

عراق کے دارالحکومت بغداد میں خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے ہوئے اور گرین زون میں داخلے کی کوشش پر سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئیں۔ حکام کے مطابق بعض مظاہرین کی فائرنگ سے سکیورٹی اہلکار متاثر ہوئے مگر فورسز نے جوابی فائرنگ نہیں کی۔

قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان اور بحرین کے وزرائے خارجہ نے ہنگامی اجلاس میں ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ انہیں اپنے دفاع کا قانونی حق حاصل ہے۔

برطانیہ کا مؤقف اور انخلا

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ ایران پر براہ راست حملوں میں شامل نہیں ہوگا، تاہم امریکا کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائل ایئر فورس کے طیاروں نے دفاعی کارروائیوں کے دوران ایرانی حملوں کو روکا۔ بحرین میں ایک حملہ برطانوی اہلکاروں کے قریب گرا۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین اور قطر سے غیر ضروری سفارتی عملے اور اہل خانہ کو واپس بلانے کی اجازت دے دی ہے۔

ابتدائی حملے کی تفصیلات

ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے مطابق مہینوں کی منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر امریکا اور اسرائیل نے بیک وقت تین مقامات کو نشانہ بنایا، جس میں خامنہ ای اور تقریباً چالیس اعلیٰ عہدیدار ہلاک ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں اس کارروائی کو دنیا کی پیچیدہ ترین فوجی مہمات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہداف کے حصول تک آپریشن جاری رہے گا اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی موجود ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں