دبئی (ایم این این): متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد پیر اور منگل کو اپنی اسٹاک مارکیٹیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی معاشی بے یقینی کا اظہار ہوتا ہے۔
یہ حملے اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ کارروائی کے بعد ایران کی جانب سے کیے گئے، جن میں ان خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات موجود ہیں۔
یو اے ای کیپیٹل مارکیٹس اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ابوظہبی سیکیورٹیز ایکسچینج اور دبئی فنانشل مارکیٹ 2 اور 3 مارچ کو بند رہیں گی۔ اتھارٹی نے کہا کہ یہ فیصلہ ملکی کیپیٹل مارکیٹس کی نگرانی اور ضابطہ کاری کی ذمہ داری کے تحت کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ علاقائی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
متحدہ عرب امارات کی دونوں بڑی ایکسچینجز میں خطے کی اہم اور قیمتی کمپنیاں درج ہیں، اور ان کی بندش سے اربوں ڈالر کے اثاثے عارضی طور پر منجمد ہو گئے ہیں جبکہ سرمایہ کار ہفتہ اور اتوار کے حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کی تفصیلات کے منتظر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حملوں میں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اتوار کو کھلنے والی دیگر خلیجی منڈیوں میں شدید مندی دیکھی گئی۔ سعودی عرب کے مرکزی انڈیکس میں چار فیصد سے زائد کمی ہوئی، عمان کی مارکیٹ تین فیصد گری جبکہ مصر کے مرکزی انڈیکس میں 5.44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ کویت نے اتار چڑھاؤ کے باعث ٹریڈنگ مکمل طور پر معطل کر دی۔
حکام نے سرمایہ کاروں کو ہدایت کی ہے کہ ٹریڈنگ کی بحالی سے متعلق تازہ معلومات کے لیے یو اے ای کیپیٹل مارکیٹس اتھارٹی، ابوظہبی سیکیورٹیز ایکسچینج اور دبئی فنانشل مارکیٹ کے سرکاری ذرائع سے رجوع کریں۔


