ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ملک بھر میں احتجاج، کراچی میں جھڑپوں کے دوران 9 افراد جاں بحق

0
1

کراچی/لاہور/گلگت/اسلام آباد/ڈی آئی خان (ایم این این): ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران کراچی میں امریکی قونصل خانے کے قریب مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

سول اسپتال کراچی کے ٹراما سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد صابر میمن کے مطابق 9 افراد جاں بحق اور 34 زخمی ہوئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ابتدائی طور پر 10 اموات کی اطلاع غلطی سے ایک ہی لاش کو دو بار شمار کرنے کی وجہ سے دی گئی تھی۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بھی 9 ہلاکتوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ بیشتر زخمیوں اور جاں بحق افراد کو گولیاں لگیں۔

قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے امریکی قونصل خانے کے باہر سکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا۔ بعد ازاں جب سڑکیں بند کرنے کے لیے کنٹینر رکھے گئے تو مظاہرین نے پتھراؤ کیا جس سے مزید جھڑپیں ہوئیں۔

سندھ حکومت نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کی ہدایت کی اور مذہبی رہنماؤں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

سندھ رینجرز نے شہر میں بھاری نفری تعینات کر دی جبکہ ٹریفک پولیس نے متبادل راستوں کا اعلان کیا۔ سندھ کے وزیر داخلہ نے حساس تنصیبات کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت جاری کی۔

اسلام آباد میں بھی سفارتی انکلیو کے قریب مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود مظاہرین ریڈ زون کی جانب بڑھے تو پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے مگر قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

لاہور میں مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں نے امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا۔ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں سات روز کے لیے چار یا زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی۔

گلگت بلتستان میں احتجاج شدت اختیار کر گیا جہاں اسکردو میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کے دفاتر سمیت متعدد عمارتوں کو آگ لگا دی۔ حکام کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث جانی نقصان نہیں ہوا اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور پہاڑ پور میں ایران سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی گئیں جو پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئیں۔

ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ حکام کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار پرامن اور قانونی طریقے سے کریں تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں